امریکی انٹیلی جنس ادارے ‘سی آئی اے’ کے سربراہ ولیم برنز نے ماسکو کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور کریملن کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں۔
ولیم برنز — جو روس میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں — کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطوں کی بحالی کی ایک نایاب کوشش ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملاقات کا مرکزی ایجنڈا یوکرین جنگ میں کشیدگی کو کم کرنا اور روس کی قید میں موجود امریکی شہریوں کی رہائی کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔
دونوں دارالحکومتوں کے درمیان باضابطہ سفارتی چینلز تقریباً منجمد ہیں۔ ایسے میں انٹیلی جنس سربراہان کا آمنے سامنے بیٹھنا محض ایک رسمی ملاقات نہیں، بلکہ ایک "سیفٹی والو” کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ کسی بڑی غلط فہمی کو تصادم میں بدلنے سے روکا جا سکے۔
کریملن کی جانب سے اس دورے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ تاہم، ماسکو کے قریبی حلقوں کا ماننا ہے کہ روس اب بھی ان امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے جو عوامی بیان بازی سے ہٹ کر، بند کمروں میں طے کیے جا سکیں۔ ولیم برنز کا انتخاب اس حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ وہ روسی قیادت کی نفسیات اور زبان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
واشنگٹن میں اس دورے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ رابطے ٹوٹنے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے یہ ملاقاتیں ضروری تھیں۔ دوسری جانب، کانگریس کے کچھ ارکان کو خدشہ ہے کہ ایسی خفیہ بات چیت سے ماسکو کو یہ پیغام جا سکتا ہے کہ امریکہ دباؤ میں ہے۔
یہ دورہ صرف یوکرین تک محدود نہیں ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے اکثر انہی خفیہ ملاقاتوں کی مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی، جب سرکاری سطح پر دروازے بند ہوئے، تو انٹیلی جنس ایجنسیاں ہی وہ واحد پل ثابت ہوئیں جن کے ذریعے قیدیوں کی واپسی ممکن ہوئی۔
ولیم برنز کا ماسکو سے واپسی کا سفر مکمل ہو چکا ہے، لیکن ان کی گفت و شنید کے نتائج خفیہ رہیں گے۔ فی الحال، یہ دورہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ جب سیاست ناکام ہو جائے، تو انٹیلی جنس رابطے ہی وہ آخری راستہ بچتے ہیں جو دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں کو مکمل تصادم سے دور رکھتے ہیں۔
