جاجرکوٹ، نیپال: نیپال کے علاقے جاجرکوٹ میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے ایک پوری بستی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ رات کے اندھیرے میں پہاڑی تودے گرنے سے مقامی رہائشیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔
مقامی حکام کے مطابق اب تک 14 لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ حادثہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا جب لوگ اپنی نیند میں تھے کہ اچانک پہاڑی کا ایک بڑا حصہ مکانوں پر آن گرا۔
بچ جانے والے افراد صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ مقامی کسان رام بہادر، جنہوں نے اس حادثے میں اپنے بھائی کو کھو دیا، کہتے ہیں کہ "پہلے جیٹ طیارے جیسی گرج سنائی دی، پھر گھر مڑ کر زمین بوس ہو گیا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے مٹی ہٹانے کی کوشش کی مگر زمین دوبارہ سرکنے لگی۔”
یہ سانحہ نیپال کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں ایک معمول بن چکا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا پیٹرن تبدیل ہو چکا ہے۔ اب کم وقت میں اتنی زیادہ بارش ہوتی ہے کہ پہاڑی ڈھلوانیں اسے جذب نہیں کر پاتیں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تودے گر جاتے ہیں۔ اس مخصوص واقعے میں، حکومتی وارننگ سسٹم دریاؤں کی سطح تو ٹریک کر رہا تھا، مگر پہاڑی ڈھلوان کے اس اچانک تودے کو بھانپنے میں ناکام رہا۔
نیپال آرمی کی امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے موقع پر پہنچیں، لیکن خراب موسم آڑے آ رہا ہے۔ گھنی دھند اور مسلسل ہلکی بارش نے ہیلی کاپٹروں کی پرواز کو ناممکن بنا دیا ہے، جس کے باعث مقامی پولیس اور رضاکار محض کدالوں اور بیلچوں کے سہارے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔
صوبائی وزیرِ اعلیٰ نے متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان تو کیا ہے، مگر اس دور افتادہ ضلع میں جہاں لوگوں کا ذریعہ معاش مویشی بانی اور کھیتی باڑی ہے، نقد رقم نقصان کا مداوا کرنے سے قاصر ہے۔
سورج ڈوبتے ہی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے۔ مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیشِ نظر امدادی کارکنوں کو رات کو کام کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان قریبی اسکول کی عمارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں، اور ہر گزرتا لمحہ ان کی بے چینی میں اضافہ کر رہا ہے۔
پہاڑوں پر بارش اب بھی جاری ہے، اور جاجرکوٹ کے ان مکینوں کے لیے ایک اور خوفناک رات کا آغاز ہو چکا ہے۔
