کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال سے نومولود کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیر کی شب پیدا ہونے والا بچہ وارڈ سے غائب ہوا، جبکہ والدین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
بچے کے والد، محمد اسلم نے میڈیا کو بتایا کہ ڈلیوری کے فوراً بعد بچہ بالکل ٹھیک تھا، لیکن نرسنگ اسٹاف اسے کسی بہانے سے دوسرے کمرے میں لے گیا۔ جب کچھ گھنٹوں بعد والدین نے بچے کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش کی تو انہیں بتایا گیا کہ بچہ وہاں موجود نہیں ہے۔
"ہم باہر کھڑے انتظار کرتے رہے،” اسلم نے روتے ہوئے کہا۔ "جب ہم اندر گئے تو عملہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہا تھا۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ میرا بیٹا کہاں گیا۔”
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم ہسپتال کے سیکیورٹی نظام کی قلعی اس وقت کھلی جب معلوم ہوا کہ میٹرنٹی وارڈ کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے یا تو خراب تھے یا پھر ان کی ریکارڈنگ میں ایک بڑا وقفہ موجود ہے۔ پولیس نے نائٹ شفٹ پر مامور عملے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر اغوا کا معاملہ لگتا ہے، جس میں ہسپتال کے اندرونی عملے کی ملی بھگت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہسپتال کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا بچے کو کسی اور کو تو نہیں سونپا گیا۔
اس واقعے نے کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں ناقص انتظامات اور سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال کے اندر ہی بچے محفوظ نہیں، تو عام شہری کہاں جائیں؟
ہسپتال کے باہر والدین کا احتجاج جاری ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ پولیس کی تفتیش جاری ہے، مگر اسلم اور ان کی اہلیہ کے لیے وقت کا ہر لمحہ ایک نئی اذیت بن چکا ہے۔ اب سب کی نظریں اس سی سی ٹی وی فوٹیج پر ہیں جو شاید اس معمہ کو حل کر سکے۔
