کراچی — جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وفاقی حکومت کی مالیاتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کا موجودہ ڈھانچہ عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک حکومتی ایوانوں میں کفایت شعاری نظر نہیں آئے گی، عوام سے قربانی مانگنا بے معنی ہے۔
کراچی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ ملک کا معاشی پہیہ غریب کی جیب سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک طرف تنخواہ دار طبقے اور صنعت کاروں پر ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے، تو دوسری طرف سرکاری مشینری کی مراعات اور اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئی۔
عام شہریوں کے لیے گھر چلانا اب ایک امتحان بن چکا ہے۔ بجلی کے بھاری بل، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے۔ حافظ نعیم کا موقف ہے کہ حکومت اپنی شاہ خرچیوں کو برقرار رکھتے ہوئے عوام سے صبر کی اپیل کر رہی ہے، جو کہ دوہرا معیار ہے۔
حافظ نعیم نے حکمران اتحاد کو چیلنج کیا کہ وہ وزراء کے غیر ملکی دوروں اور سرکاری دفاتر کے اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت صرف اپنی فضول خرچیوں پر قابو پا لے تو عام آدمی کو بجلی کے بلوں میں فوری ریلیف مل سکتا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کے تحت سخت فیصلوں کی ضرورت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں کا بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر کا بیانیہ اس بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے جو مہنگائی کے مارے طبقے میں حکومتی بے حسی کے خلاف پیدا ہو رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس تنقید پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ وزارتِ خزانہ کے حکام ماضی میں یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ موجودہ اخراجات ریاستی امور چلانے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، انتظامی اخراجات میں کمی نہ آنا اپوزیشن کے لیے ایک مضبوط سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی پالیسی طویل عرصے تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنے اخراجات کم نہ کیے تو عوامی غصہ کسی بھی وقت سڑکوں پر آ سکتا ہے، جو معاشی استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا۔
ملک میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے اور سیاسی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ عام شہری کے لیے حکومتی دعووں سے زیادہ اہم اس کا ماہانہ بجلی کا بل ہے، جو اس وقت اس کے گھر کا سکون برباد کر رہا ہے۔
