سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے زمین کے اندرونی حصوں کا اب تک کا سب سے تفصیلی اور واضح نقشہ تیار کر لیا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے وضع کردہ اس نئی ٹیکنالوجی نے دہائیوں پر محیط زلزلے کی لہروں کے ڈیٹا کو پروسیس کر کے زمین کے مینٹل کی ساخت کو ایک الٹراساؤنڈ کی طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
زمین کی اندرونی تہوں تک رسائی ہمیشہ سے ارضیاتی سائنس کے لیے ایک چیلنج رہی ہے۔ اب تک زلزلے کی لہروں کے تجزیے میں درجہ حرارت اور کیمیائی تبدیلیوں کے درمیان فرق کرنا انتہائی مشکل تھا، مگر اس نئے ماڈل نے پس منظر کے شور کو فلٹر کر کے زمین کی اندرونی کیمیا کو حیران کن وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
اس تحقیق سے زمین کے مرکز کے قریب سے اٹھنے والے گرم چٹانوں کے بڑے "پلمز” کی نشاندہی ہوئی ہے۔ یہ گرم مادے کے ستون زمین کی سطح پر آتش فشاں کے دہانوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین طویل عرصے سے ان کی موجودگی کا اندازہ لگا رہے تھے، لیکن اب ان کی درست جیومیٹری اور حرکت کو سمجھنا ممکن ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور زمین کے اندرونی حرارتی نظام کو سمجھنے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔
تحقیقی ٹیم نے اپنے ماڈل کو ہزاروں مصنوعی زلزلوں کے ڈیٹا پر ٹرین کیا، جس کے بعد اسے ‘گلوبل سیسموگرافک نیٹ ورک’ کے حقیقی ڈیٹا پر لاگو کیا گیا۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا متحرک 3 ماڈل ہے جسے ہر نئے زلزلے کے بعد اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ساکت تصویر کے بجائے زمین کے اندرونی نظام کی ایک رواں ڈاکیومنٹری کی طرح کام کرتا ہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم اس کی حدود بھی موجود ہیں۔ سمندر کی تہہ میں سیسمو میٹرز (زلزلہ پیما آلات) کی کمی کے باعث گہرے سمندروں کے نیچے کا ڈیٹا اب بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ جیسے جیسے سمندری حدود میں مزید سینسرز نصب کیے جائیں گے، اس ماڈل کی درستگی میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔
یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کی گہرائیوں کو جاننے کے لیے اب صرف ڈرلنگ کی ضرورت نہیں رہی۔ انسانی عقل اور مصنوعی ذہانت کا یہ امتزاج ہمیں اس سیارے کے ان رازوں تک پہنچا رہا ہے جو اب تک انسانی پہنچ سے دور تھے۔
