اسلام آباد پولیس پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی حالیہ اموات کے معاملے پر ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تذبذب کا شکار ہے۔ لواحقین کی جانب سے سخت احتجاج اور طبی غفلت کے الزامات کے باوجود تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ ہدایات کے منتظر ہیں۔
یہ تاخیر ایک انتظامی تعطل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہسپتال کے باہر جمع ہونے والے متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے، تاہم پولیس کا موقف ہے کہ جب تک وزارتِ صحت کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی، قانونی کارروائی شروع کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارے پاس درخواستیں موجود ہیں، لیکن معاملہ طبی پروٹوکولز سے جڑا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں باضابطہ طور پر کارروائی کا حکم دے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔”
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ موقف انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس اور ہسپتال انتظامیہ ملی بھگت کر رہے ہیں تاکہ اصل ذمہ داروں کو بچایا جا سکے۔ ماضی میں بھی پمز کی انکوائری کمیٹیاں اکثر ایسی رپورٹس جاری کرتی رہی ہیں جن میں کسی بڑی سطح پر ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جاتا، جس سے ہسپتال کا "کلچر آف امپیوٹی” (استثنیٰ کا نظام) مزید مضبوط ہوتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے اس سب سے بڑے ہسپتال میں گزشتہ چند ماہ کے دوران طبی سہولیات کے فقدان، عملے کی کمی اور آلات کی خرابی کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ مریضوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ داخلی انکوائریاں محض عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کا ایک حربہ ہیں۔
وزارتِ صحت نے "شفاف تحقیقات” کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ رپورٹ کب مکمل ہوگی اور کیا اسے پبلک کیا جائے گا یا نہیں۔
ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کے لیے قانونی راستہ بند ہے۔ جب تک حکومت اپنی خاموشی نہیں توڑتی، پمز میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار کون ہے، یہ سوال محض فائلوں اور بیوروکریسی کی بھول بھلیوں میں گم رہے گا۔
