نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بجلی چوری اور سسٹم کی خرابیوں کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر نہ ڈالے۔ ریگولیٹر نے کمپنی کو حکم دیا ہے کہ جن علاقوں میں ریکوری کی شرح بہتر ہے، وہاں بجلی کی بندش کا سلسلہ فوری ختم کیا جائے۔
کراچی کے رہائشی برسوں سے اس مسئلے کا شکار ہیں۔ کے الیکٹرک نے اب تک "گروپنگ” کا فارمولا اپنا رکھا تھا، جس کے تحت جن علاقوں میں لائن لاسز زیادہ ہوتے تھے، وہاں پورے علاقے کی بجلی کاٹ دی جاتی تھی۔ اس عمل میں وہ صارفین بھی متاثر ہوتے تھے جو وقت پر اپنے بل ادا کرتے ہیں۔ نیپرا کے نئے حکم نامے نے اس پالیسی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ریگولیٹری ذرائع کے مطابق، کمپنی اپنی آپریشنل ناکامیوں کا مالی بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ نیپرا کا موقف ہے کہ کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مانیٹرنگ کے ذریعے ان مخصوص پوائنٹس کی نشاندہی کرے جہاں بجلی چوری ہو رہی ہے، نہ کہ پورے محلے کو اجتماعی سزا دی جائے۔
نئے احکامات کے تحت، کے الیکٹرک کو اب صرف ان مخصوص فیڈرز یا کنکشنز کو ہدف بنانا ہوگا جہاں نقصانات کی شرح زیادہ ہے۔ جن علاقوں میں بلوں کی ادائیگی 90 فیصد یا اس سے زائد ہے، وہاں کسی بھی صورت میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا سکتی۔
یہ فیصلہ کے الیکٹرک کے لیے ایک بڑی انتظامی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی کا پاور سیکٹر ایک دہائی سے زائد عرصے سے ٹیرف، لوڈ شیڈنگ اور صارفین کی شکایات کے گرد گھوم رہا ہے۔ نیپرا نے تنبیہ کی ہے کہ اگر اس حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو کمپنی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اب گیند کے الیکٹرک کے کورٹ میں ہے۔ کیا کمپنی اپنے بوسیدہ گرڈ سسٹم کو اپ گریڈ کر کے انفرادی نادہندگان تک پہنچ سکے گی، یا پھر یہ حکم بھی کاغذوں تک محدود رہے گا؟ فی الحال، ریگولیٹر نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ بجلی کا بل ادا کرنے والوں کو اندھیرے میں رکھنے کا جواز ختم ہو چکا ہے۔
