اس سیزن ناردرن بائی پاس پر قائم کراچی کی بڑی مویشی منڈی تین وجوہ کی بنا پر خاص طور پر نمایاں نظر آ رہی ہے: بہتر نظم و نسق، تاجروں اور خریداروں کے لیے مضبوط سہولتیں، اور عیدالاضحیٰ سے پہلے سرگرمی میں واضح اضافہ۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق منڈی کے افتتاح کے وقت حکام نے بہتر سکیورٹی اور انتظامی سہولتوں کا وعدہ کیا، جبکہ شہر میں مویشی منڈیوں کے لیے اجازت نامے کا نظام بھی سخت کیا گیا۔
اس بار منڈی کے مختلف دکھائی دینے کی ایک بڑی وجہ اس کا زیادہ منظم انداز ہے۔ انتظامیہ نے منڈی لگانے والوں کے لیے کمشنر آفس سے اجازت لینا لازمی قرار دیا ہے، اور منظوری کو ٹریفک، پولیس اور بلدیاتی رابطے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب منڈی صرف ایک روایتی عارضی بازار نہیں رہی بلکہ اس پر سرکاری نگرانی اور باقاعدہ انتظام پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔
سہولتوں کا پہلو بھی اس کہانی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ افتتاحی رپورٹس میں بہتر سکیورٹی، تاجروں کے لیے آسانیاں اور آنے والے خاندانوں کے لیے نسبتاً بہتر انتظامات کا ذکر کیا گیا۔ یوں منڈی اب صرف جانور خریدنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک زیادہ منظم، نسبتاً محفوظ اور عوام دوست مقام کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہے۔
ترقی کا پہلو تعداد اور رش دونوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق پہلے بیس دنوں میں ہی 13 ہزار سے زائد جانور منڈی پہنچ چکے تھے، جبکہ خریداروں اور دیکھنے والوں کی آمد بھی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ منڈی نہ صرف فعال ہے بلکہ اپنے حجم اور کشش دونوں میں پھیل رہی ہے۔
مختصراً، کراچی منڈی کو اس سیزن نمایاں بنانے والی چیز صرف اس کا بڑا ہونا نہیں بلکہ اس کا زیادہ منظم، زیادہ نگرانی والا اور زیادہ سہولت یافتہ ہونا ہے۔ یعنی اس بار منڈی صرف وسیع نہیں، نسبتاً بہتر انداز میں چلتی ہوئی بھی دکھائی دے رہی ہے۔
