نیویارک کی عدالت نے ریاست کے اس متنازعہ قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے جس کے تحت بڑی تیل کمپنیوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے اربوں ڈالر وصول کیے جانے تھے۔ اس فیصلے کو ریاست کی ڈیموکریٹک قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
منگل کو سنائے گئے اس فیصلے میں عدالت نے ان صنعتی گروپوں کے مؤقف کی تائید کی جنہوں نے دلیل دی تھی کہ یہ قانون ایک "پسِ پشت لاگو ہونے والی سزا” ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ دہائیوں پرانی ایسی سرگرمیوں پر کمپنیوں کو جرمانہ کرنا—جو اس وقت قانونی تھیں—ریاستی اختیار سے باہر ہے۔
نیویارک کا یہ منصوبہ کافی وسیع تھا۔ اس کا ہدف دنیا کی بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں سے اگلے 25 برسوں تک سالانہ 3 ارب ڈالر کی وصولی کرنا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ماحولیاتی بگاڑ کی قیمت ان اداروں سے لی جائے جنہوں نے اس کے منافع کمائے۔ تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ ریاست ایک مقامی ٹیکس کے ذریعے عالمی سطح پر کمپنیوں کے طرزِ عمل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو وفاقی قوانین کے منافی ہے۔
ایک قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ "یہ ٹیکس نہیں، بلکہ ایک مخصوص صنعت کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی، جس کا دائرہ کار ریاست کی حدود سے باہر ہے۔”
نیویارک کے عام شہریوں کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب ماحولیاتی بہتری کے لیے درکار فنڈز کا بوجھ کہیں اور سے اٹھانا پڑے گا۔ ریاست پہلے ہی سمندری سطح بلند ہونے سے پیدا ہونے والے خطرات اور بوسیدہ سیوریج سسٹم کی اپ گریڈیشن کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت کا سامنا کر رہی ہے۔ اب یہ رقم یا تو سرکاری خزانے سے آئے گی یا پھر نئے ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر بوجھ بنے گی۔
ماحولیاتی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اس فیصلے کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایک کارکن نے عدالت کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔ اگر وہ کمپنیاں ادائیگی نہیں کرتیں جنہوں نے اس سے اربوں کمائے، تو پھر یہ بوجھ ان لوگوں کو اٹھانا پڑے گا جن کے گھر سیلاب کی نذر ہو رہے ہیں۔”
امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ سمیت تیل کی صنعت کے بڑے ناموں کا موقف رہا ہے کہ ماحولیاتی پالیسی کو وفاقی سطح پر طے ہونا چاہیے، نہ کہ ہر ریاست کے الگ الگ قوانین کے ذریعے۔ فی الحال اس فیصلے نے نیویارک کے ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کو فنڈز کے بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی اٹارنی جنرل کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل کا امکان ہے، لیکن تب تک یہ قانون سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے۔
