کھٹمنڈو — نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اب بھی درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تاہم، حکومتی امدادی کارروائیوں کے باوجود ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی بازیابی میں ناکامی کے بعد، سوگوار خاندانوں نے ‘علامتی آخری رسومات’ کا مشکل فیصلہ کر لیا ہے۔
وادی کھٹمنڈو کے نواحی علاقوں اور سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع کاورے پالن چوک اور سندھو پالچوک میں صورتحال سنگین ہے۔ دریائی ریلوں میں بہہ جانے والے افراد کی باقیات اب کچرے اور مٹی کے ٹنوں وزنی ڈھیر تلے دفن ہو چکی ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق، جب لاش دستیاب نہ ہو تو ‘کش’ نامی مقدس گھاس سے انسانی شکل بنا کر آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
"ہم نے کئی دن تک دریا کے کناروں کو چھانا،” رام بہادر نے بتایا، جن کے بھائی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ کر لاپتہ ہو گئے تھے۔ "جب ریسکیو ٹیموں نے امید چھوڑ دی تو ہمیں سمجھ آ گیا کہ دریا اب انہیں واپس نہیں کرے گا۔ ہمیں انہیں الوداع کہنا ہی تھا۔”
یہ رسم عام طور پر پہاڑی حادثات میں لاش نہ ملنے پر ادا کی جاتی ہے، مگر اس بار یہ ایک اجتماعی المیہ بن چکی ہے۔ دریا کے کناروں پر جلنے والی چتائیں اب ان خاندانوں کا مقدر بن چکی ہیں جنہیں تدفین کے لیے اپنے پیاروں کا جسم بھی نصیب نہیں ہوا۔
موسمیات کے ماہرین نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کی تھی، لیکن سرکاری انتباہی نظام دیہی علاقوں تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال کا بنیادی ڈھانچہ، خاص طور پر پہاڑی راستے اور پل، اس شدت کے سیلاب کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تباہ حال سڑکوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت نے متاثرین کے لیے وقتی رہائش اور مالی امداد کا اعلان تو کیا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ امداد ان کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔ گھروں کی تعمیر نو تو وقت کے ساتھ ممکن ہے، مگر اپنے پیاروں کو آخری بار نہ دیکھ پانے کا صدمہ اب ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
بارشیں تھم چکی ہیں، لیکن دریائے کنارے خاموشی سے ادا کی جانے والی یہ علامتی رسومات اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ نیپال میں قدرت کا قہر اپنے پیچھے کتنے گہرے زخم چھوڑ گیا ہے۔ قہرِ قدرت نے نہ صرف ان کے گھر اجاڑے، بلکہ انہیں اس آخری رسائی سے بھی محروم کر دیا جو کسی بھی انسان کے لیے سکون کا باعث بنتی ہے۔
