خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز کے دوران 21 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کی گئیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد ‘خوارج’ تھے، جو طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا، جس سے علاقے میں تخریب کاری کے بڑے منصوبوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال گزشتہ چند ماہ سے انتہائی کشیدہ ہے۔ خاص طور پر قبائلی اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملے اور بارودی سرنگوں کے دھماکے معمول بن چکے ہیں۔ مقامی آبادی ان بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث شدید خوف و ہراس کا شکار ہے، جہاں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
فوجی حکام کا ماننا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف عسکری کامیابی کافی نہیں ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت اور مقامی سطح پر سہولت کاروں کا نیٹ ورک اب بھی سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، لیکن پائیدار امن کے قیام کے لیے صرف عسکری طاقت کا استعمال کافی نہیں ہوگا جب تک کہ سرحدی انتظام اور مقامی سیکیورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط نہیں کیا جاتا۔
فی الحال، متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں، اور سیکیورٹی فورسز نے اہم ٹھکانوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس طویل لڑائی میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کا سلسلہ بھی تھم نہیں سکا، جو اس پیچیدہ جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
