چین اور نیپال میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے بعد اقوام متحدہ نے متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی امداد کی اپیل کر دی ہے۔ شدید موسم نے بنیادی ڈھانچے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
نیپال میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے کم از کم 230 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ باگمتی ندی میں طغیانی کے بعد کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے رہائشیوں کو اپنی جان بچانے کے لیے چھتوں پر پناہ لینی پڑی۔ امدادی ٹیموں کو مٹی اور ملبے کے باعث دشوار گزار راستوں پر کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چین میں بھی صورتحال قابو سے باہر دکھائی دیتی ہے۔ کئی صوبوں میں مسلسل بارشوں نے معمولاتِ زندگی معطل کر دیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سیلابی ریلوں اور تودے گرنے کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے اوپر پہنچ چکی ہے۔ زرعی زمینیں پانی میں ڈوبنے سے فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جس سے مستقبل میں غذائی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ مقامی وسائل ختم ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ اب علاقائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صاف پانی، طبی امداد اور خیموں کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ سب سے بڑا چیلنج مواصلاتی نظام کی تباہی ہے؛ اہم شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے بھاری مشینری اور امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔
نیپال میں شہری منصوبہ بندی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ سیلابی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔ دوسری جانب، چین کی ہنگامی انتظامیہ نے دریاؤں کے کناروں کو مضبوط کرنے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کر دیے ہیں، لیکن محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کر کے حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بحران کسی ایک ادارے کی استطاعت سے باہر ہے۔” اب اصل توجہ وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے پر ہے، کیونکہ کھڑا پانی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ہمالیائی خطے میں سردی کی آمد آمد ہے، جس سے بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ امدادی سرگرمیوں کی رفتار ہی اب ان ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا واحد سہارا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کا کام آخری مراحل میں ہے، مگر متاثرین کے لیے بحالی کا سفر ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
