لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی الماریوں میں ایک صدی سے محفوظ مینڈک کا نمونہ بالآخر اپنی شناخت کروانے میں کامیاب ہو گیا۔ ماہرینِ حیاتیات نے تصدیق کی ہے کہ 1902 میں جمع کیا گیا یہ مینڈک کسی عام نسل کا نہیں، بلکہ ایک ایسی منفرد نوع سے تعلق رکھتا ہے جو اب تک سائنس کی نظروں سے اوجھل تھی۔
یہ دریافت ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے: ہماری دنیا کی حیاتیاتی تنوع کے کئی جواب جدید لیبارٹریوں میں نہیں، بلکہ پرانے میوزیمز کے گرد آلود خانوں میں دفن ہیں۔
جدید جینیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس مینڈک کا ڈھانچہ اور جلد کی ساخت ان تمام اقسام سے مختلف ہے جنہیں اب تک ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماضی کے محققین نے اسے ایک عام نسل سمجھ کر لیبل لگایا اور سٹوریج میں رکھ دیا، مگر جدید ٹیکنالوجی نے ثابت کیا کہ اس کے پنجوں کی ساخت اور جلد کے خلیات اسے ایک الگ ارتقائی شاخ پر کھڑا کرتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے پاس موجود ہر نمونے کی شناخت ہو چکی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہم ایک صدی قبل جمع کیے گئے خزانوں کو سمجھنے میں ابھی بھی پیچھے ہیں۔”
اس مینڈک کا اصل مسکن کہاں تھا؟ 1902 کی مہم کے ریکارڈز میں اس کا ذکر بہت مختصر ہے۔ سائنسدانوں نے اب اس مینڈک کو محفوظ کرنے والے محلول سے ڈی این اے کے ذرات نکال کر اس کے قدرتی ماحول کا سراغ لگایا ہے۔ ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ یہ نوع انڈیز کے پہاڑی سلسلے کے بادلوں والے جنگلات میں پائی جاتی تھی، جو اپنی نایاب حیات کے لیے مشہور ہیں۔
دنیا بھر کے عجائب گھروں میں ہزاروں ایسے نمونے موجود ہیں جو غلط لیبلنگ کی وجہ سے گمنامی کا شکار ہیں۔ یہ صرف ایک مینڈک کی کہانی نہیں، بلکہ ان لاکھوں جانداروں کی یاد دہانی ہے جنہیں ہم نے دریافت کرنے سے پہلے ہی کھو دیا یا بھلا دیا۔
اب ماہرین کی ٹیم انڈیز کے ان جنگلات میں جائے گی جہاں سے یہ نمونہ لایا گیا تھا۔ اگر وہاں اس نسل کا کوئی زندہ فرد مل گیا، تو یہ سائنس کی تاریخ کا ایک نادر واقعہ ہوگا — ایک ایسی مخلوق کی واپسی جو سو سال تک ہماری الماریوں میں قید رہی۔
