اس سال کی شدید گرمی محض ایک موسمی ریکارڈ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے موسمیاتی تبدیلی کو کتابوں اور کانفرنسوں سے نکال کر انسانی زندگی کے عام مسائل کا حصہ بنا دیا۔ رواں برس دنیا بھر میں درجہ حرارت جس تیزی سے بڑھا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بحران اب مستقبل کا نہیں، بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔
جولائی 2024 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زمین نے اپنی تاریخ کے گرم ترین دن دیکھے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جہاں زندگی کی بقا مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو گئی۔ صرف پاکستان ہی نہیں، یورپ سے لے کر شمالی امریکہ تک، سیلاب، جنگلات کی آگ اور ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔
اس شدت کا احساس صرف درجہ حرارت کے میٹر پر نہیں، بلکہ عام آدمی کی جیب پر ہوا۔ زرعی پیداوار میں کمی نے خوراک کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا، جس سے ایک عالمی معاشی بحران نے جنم لیا۔ جب موسمیاتی تبدیلی آپ کے دسترخوان تک پہنچ جائے، تو پھر اس پر بحث کرنا محض علمی مشغلہ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں: "ہم اب انتباہی اشاروں کے دور سے نکل چکے ہیں۔ اب ہم نتائج بھگتنے کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم نے جس طرح کا نظام بنایا تھا، وہ اب اس بدلتے ہوئے موسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔”
اس موسم گرما نے ایک اور اہم تبدیلی پیدا کی ہے: رویوں میں تبدیلی۔ برسوں تک موسمیاتی تبدیلی کو اگلی نسل کا مسئلہ سمجھا جاتا رہا۔ لیکن جب سکول شدید گرمی کے باعث بند ہونے لگے اور انشورنس کمپنیوں نے آفات سے متاثرہ علاقوں میں خدمات فراہم کرنا بند کر دیں، تو یہ بحران ہر خاص و عام کے لیے ذاتی بن گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پالیسیوں کی سطح پر تاحال سستی دکھائی دیتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے وعدے اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومتیں توانائی کی منتقلی کے میکانزم پر بحث کر رہی ہیں، جبکہ ماحول اب معیشت کی شرائط خود طے کر رہا ہے۔
اگر 2024 کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، تو صرف اس لیے نہیں کہ اس سال ریکارڈ گرمی پڑی، بلکہ اس لیے کہ اس سال موسمیاتی بیانیے اور انسانی تجربے کے درمیان کا فاصلہ مٹ گیا۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا زمین بدل رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ نظام مزید کتنی تباہی برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے۔
