ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی صحت کے حکام نرسنگ ہومز کے لیے کووڈ-19 سے متعلق وفاقی رپورٹنگ کی شرائط میں تبدیلی پر غور کر رہے ہیں۔ حکومت اب وبائی دور کی نگرانی کے بجائے سانس کی مختلف بیماریوں کی مجموعی نگرانی پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
کووڈ-19 وبا کے دوران نرسنگ ہومز کے لیے ضروری تھا کہ وہ کووڈ-19 کے کیسز اور دیگر متعلقہ معلومات CDC کے National Healthcare Safety Network (NHSN) کے ذریعے رپورٹ کریں۔ یہ شرائط اس لیے متعارف کرائی گئی تھیں کیونکہ نرسنگ ہومز میں رہنے والے بزرگ افراد وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے میں تھے۔
کووڈ-19 سے متعلق کچھ رپورٹنگ کی شرائط 2024 کے آخر میں ختم ہو گئیں۔ 2025 سے نرسنگ ہومز کے لیے نئی وفاقی شرائط کے تحت کووڈ-19، انفلوئنزا اور RSV سے متعلق معلومات فراہم کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
حال ہی میں وفاقی حکام نے نرسنگ ہومز کے معیارِ کار سے متعلق پروگراموں میں کووڈ-19 ویکسینیشن کی کچھ رپورٹنگ شرائط بھی ختم کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ CMS کے مطابق یہ تبدیلیاں کووڈ-19 سے متعلق بدلتی ہوئی طبی رہنمائی اور اس بیماری کے وبائی ایمرجنسی سے ایک مستقل بیماری کی صورت اختیار کرنے کی وجہ سے کی جا رہی ہیں۔
ان تبدیلیوں کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر لازمی رپورٹنگ کم کر دی گئی تو کیا عوامی صحت کے اداروں کے لیے بزرگ افراد میں بیماری کے پھیلاؤ اور وباؤں کی نگرانی مشکل ہو سکتی ہے۔ 2024 کی HHS Inspector General کی رپورٹ کے مطابق NHSN کے ذریعے نرسنگ ہومز سے کووڈ-19 کی معلومات حاصل کرنا وبا کی نگرانی کے لیے اہم تھا، تاہم اس نظام کو ڈیٹا کے معیار اور تکنیکی مسائل کا بھی سامنا رہا۔
مختصر طور پر: ٹرمپ انتظامیہ نرسنگ ہومز کے لیے کووڈ-19 سے متعلق کچھ مخصوص رپورٹنگ کی شرائط کم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ وفاقی نگرانی میں سانس کی دیگر بیماریوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں بنیادی بحث یہ ہے کہ نرسنگ ہومز پر انتظامی بوجھ کم کیا جائے، لیکن ساتھ ہی بزرگ افراد کی صحت اور حفاظت کے لیے ضروری معلومات بھی دستیاب رہیں۔
