کراچی وفاقی اردو یونیورسٹی، شعبہ ابلاغ عامہ عبدالحق کیمپس کے زیر اہتمام ’’مکہ دفاعی معاہدہ، امریکہ ایران جنگ اور عوام‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا، جس میں سینئر صحافی و تجزیہ کار منزہ صدیقی اور شعبہ سیاسیات کی سربراہ ڈاکٹر رانی ارم نے خطاب کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی اور ایگزیکٹو پروڈیوسر منزہ صدیقی نے کہا کہ جنگ کسی بھی ملک اور معاشرے کے لیے اچھی چیز نہیں۔ جنگ کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی صورتحال میں غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ یا عالمی تنازعے کو صرف عسکری نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کے سیاسی، معاشی، سماجی اور انسانی پہلوؤں کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایسے علاقائی معاہدوں کے معاشی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنی معیشت، عوامی مفادات اور علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کے فیصلے کرنا ہوں گے۔
منزہ صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت اور اسلام آباد کو اس کے سیکریٹریٹ کے طور پر قرار دینا خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ تاہم کسی بھی دفاعی یا علاقائی معاہدے کے اثرات کو سمجھنے کے لیے اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ خبر دیتے وقت تصدیق شدہ معلومات اور حقائق کو سامنے رکھیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کی تشہیر سے گریز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایران جنگ سے قبل آبنائے ہورمز تیل کی عالمی تجارت کا اہم مرکز بن چکی تھی جہاں ملکوں کے درمیان سودے مقامی کرنسی میں کئے جارہے تھے اور ایک ایسا تجارتی مرکز قائم ہوچکا تھا جہاں ڈالر کو فوقیت حاصل نہیں تھی۔
شعبہ سیاسیات کی سربراہ ڈاکٹر رانی ارم نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی تمام تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، اس لیے اس کے ممکنہ اثرات پر حتمی رائے قائم کرنے کے بجائے مزید معلومات اور پیش رفت کا انتظار ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خطے کی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ایران، امریکہ کشیدگی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یمن اور سعوری عرب کے درمیان سرحدوں کا تنازعہ طویل عرصے سے قائم ہے۔ جسے اس کے درست پس منظر کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم ملک ہے، اس لیے خطے میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں اس کی خارجہ پالیسی، معیشت اور داخلی صورتحال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر رانی ارم نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھنے کے لیے عالمی سیاست، سفارت کاری اور علاقائی تعلقات کا مطالعہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں کے براہ راست اثرات عام شہریوں کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ جنگوں اور تنازعات کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، تجارت، روزگار اور دیگر شعبوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لیے عوامی سطح پر بھی ان معاملات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ اور امریکہ ایران جنگ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسے علمی اور معلوماتی سیمینارز کا انعقاد طلبہ کو ملکی، علاقائی اور عالمی معاملات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابلاغ عامہ کے طلبہ مستقبل میں صحافت اور میڈیا کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوں گے، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی سیاست اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہ رہیں۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا کہ صحافت کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا اور اہم معاملات کے بارے میں معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
سیمینار کے دوران مقررین نے جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات، امریکہ ایران کشیدگی، مکہ دفاعی معاہدے، پاکستان کی علاقائی صورتحال اور میڈیا کے کردار پر گفتگو کی۔ اس موقع پر طلبہ نے بھی مقررین سے مختلف سوالات کیے، جن میں جنگ کے عام عوام پر اثرات، پاکستان کی معیشت، خطے کی بدلتی صورتحال اور میڈیا کی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات شامل تھے۔ مقررین نے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہیں عالمی معاملات کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی تلقین کی۔
سیمینار میں شعبہ ابلاغ عامہ کے اساتذہ ڈاکٹر شرجیل نوید، ڈاکٹر ہما نثار، زرین اختر، ایاز احمد، ڈاکٹر ثمرین، ڈاکٹر ناصر محمود، نامزد کنندہ کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر سید اقبال نقوی اور ڈاکٹر روشن علی سومرو، انجمن اساتذہ کے ٹریژرار خرم شاہ نواز، ڈاکٹر عثمان اور دیگر اساتذہ و طلبا و طالبات نے شرکت کی۔اور سیمینار کے اختتام پر ماہرین سے سوالات کئے۔
سیمینار کے اختتام پر نامزد کنندہ کمیٹی کے رکن اور اساتذہ نمائندہ ڈاکٹر سید اقبال نقوی نے مہمان مقررین، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علمی پروگرام طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ملکی، علاقائی اور عالمی معاملات کو عملی تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
