امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ ایک اعلیٰ حکام سے واقف ذریعے کے مطابق قطری ثالث نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی فریق کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ یہ مذاکرات پیر یا منگل کو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر بات چیت متوقع ہے۔ ایرانی تجویز میں دشمنی ختم کرنے، ایرانی اثاثے منجمد کیے جانے کے خاتمے، ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور امریکی بندرگاہی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں نیویارک میں موجود ہیں۔ ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق عراقچی ثالثوں سے ملاقات میں تازہ تجاویز اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کی تجویز مسترد کرنے کا کہا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی۔ دوسری جانب عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کی باضابطہ اطلاع نہیں ملی اور ایران آئندہ اقدامات کے لیے امریکی مؤقف کا منتظر ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ بھی مذاکرات میں اہم موضوع ہوگا۔ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے کی بحالی امریکی فوجی دباؤ میں کمی اور دیگر شرائط پوری کیے جانے سے مشروط ہوگی۔
تازہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بجائے ثالثوں کے ذریعے رابطے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ آئندہ ملاقاتوں میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
