مصنفہ اور سابق صحافی ریہم خان نے اداکارہ سارہ خان کی حالیہ نسوانیت (فیمینزم) کے بارے میں دی گئی رائے پر کھل کر تنقید کی ہے اور انہیں یاد دلایا کہ ان کی کامیابی اسی نسوانی تحریک کی بدولت ممکن ہوئی ہے جسے وہ نظر انداز کر رہی ہیں۔
گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں سارہ خان نے کہا تھا کہ وہ خود کو "بڑی فیمینسٹ” نہیں سمجھتیں اور وہ روایتی صنفی کرداروں کو ترجیح دیتی ہیں، اور یقین رکھتی ہیں کہ مردوں کو اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں تاکہ خواتین پرامن زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے گھر پر رہنا پسند کرنے اور بلوں کی ادائیگی کے لیے قطار میں کھڑے ہونے جیسی جدید مصیبتوں سے اجتناب کا بھی اظہار کیا۔
FHM پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے، ریہم خان نے سارہ کے خیالات کو چیلنج کیا اور کہا کہ بطور ماں سارہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کے یہ بیانات آنے والی نسلوں، خاص طور پر ان کی بیٹی پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ریہم نے کہا کہ اگر فیمینزم نہ ہوتا تو سارہ آج ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات میں کام نہیں کر پاتیں۔
ریہم نے مزید کہا کہ ایسے بیانات اکثر خواتین کی طویل عرصے سے جاری جبر و استبداد کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے عوامی شخصیات اور بااختیار خواتین سے کہا کہ وہ ان نظریات کو رد کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں جنہوں نے انہیں ترقی اور کامیابی دی ہے۔
اس تبادلہ خیال نے سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں نسوانیت اور روایتی اقدار پر زبردست بحث کو جنم دیا ہے۔
