ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسکولوں میں جلد گریڈنگ کا آغاز بچوں، خاص طور پر لڑکیوں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
طبی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی یہ تحقیق سویڈن میں کی گئی، جس میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تاکہ جانچا جا سکے کہ اے سے ایف تک کے گریڈز کا جلد آغاز ذہنی کیفیت پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
2012 سے پہلے سویڈن میں گریڈنگ آٹھویں جماعت (14 سال) سے شروع ہوتی تھی، مگر تعلیمی اصلاحات کے بعد یہ چھٹی جماعت (12 سال) سے دی جانے لگی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ خاص طور پر وہ لڑکیاں جو تعلیمی کارکردگی میں پیچھے تھیں، ان میں ڈپریشن، اضطراب اور خود اعتمادی کی کمی کے کیسز میں اضافہ ہوا۔
لڑکوں پر اثرات کم تھے، مگر ان میں شراب نوشی اور ذہنی دباؤ سے جڑی عادات میں تھوڑا اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گریڈنگ خود نقصان دہ نہیں، لیکن کم عمر بچوں پر اس کا دباؤ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھا جائے۔
تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ گریڈنگ مناسب عمر سے شروع کی جائے، اساتذہ کو دباؤ کی علامات پہچاننے کی تربیت دی جائے اور ذہنی صحت کو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
