روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ صرف اسی صورت میں امن مذاکرات پر آمادہ ہوں گے جب مغرب ان کے شرائط پر بات کرے، کریملن سے قریبی ذرائع کے مطابق۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر اضافی پابندیوں اور یوکرین کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی جیسے اعلانات کے باوجود، ماسکو کا ماننا ہے کہ اس کی معیشت اور افواج مزید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایک روسی ذریعے کے مطابق، “پیوٹن سمجھتے ہیں کہ کسی نے ابھی تک سنجیدگی سے امن معاہدے کی شرائط پر ان سے بات نہیں کی۔”
روسی افواج اب تک یوکرین کے کافی علاقے پر قابض ہو چکی ہیں اور حالیہ مہینوں میں کچھ مزید پیش رفت ہوئی ہے۔ کریملن سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یوکرینی دفاع کمزور پڑا تو روس مزید علاقوں پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔
پیوٹن کی شرائط میں نیٹو کی مشرقی یورپ میں مزید توسیع سے گریز، یوکرین کی غیر جانبداری، روسی زبان بولنے والے شہریوں کے حقوق کا تحفظ، اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔
دوسری جانب، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی ان شرائط کو مسترد کر چکے ہیں، اور انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ یوکرین اپنے علاقے واپس لے گا اور نیٹو رکنیت کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
اگرچہ پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان متعدد بار بات چیت ہوئی ہے، ماسکو امریکی ارادوں پر شکوک رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے روسی اشیاء پر 100 فیصد ٹیرف اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود، روس نے اپنی پالیسی نہیں بدلی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین کی مزاحمت جاری رہی تو روس ممکنہ طور پر اپنے موجودہ قبضے کو مضبوط کرے گا، لیکن اگر دفاع ٹوٹا، تو مزید علاقوں پر کنٹرول کی کوشش کی جائے گی۔
پیوٹن اس جنگ کو مغرب کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف ایک تاریخی موقع کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر سنجیدہ مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
