سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹی وی پرسنالٹی اُرفی جاوید نے حال ہی میں ایک بغیر فلٹر ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کا چہرہ سوجا ہوا اور سُرخ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ویڈیو انہوں نے اُس وقت بنائی جب وہ دردناک لپ فلر رِیموول پروسیجر سے گزریں۔
ویڈیو میں اُرفی نے بتایا کہ وہ 18 سال کی عمر سے لپ اور اسمایل لائن فلرز لگوا رہی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ فلرز اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور چہرہ غیر قدرتی لگنے لگا۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے انہوں نے مزید فلرز لگوائے، مگر آخرکار فیصلہ کیا کہ سب کچھ ختم کروا دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہائیالورونیڈیئز نامی ایک انزائم کا استعمال کروایا جو فلرز کو تحلیل کر دیتا ہے۔
ویڈیو میں اُرفی نے کہا:
"یہ فلٹر نہیں ہے… اور ہاں، بہت درد ہوتا ہے۔”
ویڈیو میں ان کا چہرہ نمایاں طور پر سوجا ہوا اور نیلا دکھائی دے رہا تھا، لیکن اُرفی نے بغیر جھجک پورا تجربہ شیئر کیا۔ انہوں نے اپنے فالوورز کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی عام یا ان پڑھ کلینک پر ایسے پروسیجر نہ کروائیں۔
"کسی بھی شوخ و چمکدار کلینک پر نہ جائیں، کسی ماہر ڈرماٹولوجسٹ کے پاس ہی جائیں،” انہوں نے کہا۔
ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ یہ ردِعمل عام ہے۔ فلر ختم کرنے کے بعد سوجن، سُرخی اور تکلیف عام باتیں ہیں جو چند دنوں یا ہفتوں میں خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر یہ پروسیجر غلط طریقے سے کیا جائے تو سنگین نتائج جیسے خون کی نالیوں کی بندش، جلد کا مردہ ہونا، یا یہاں تک کہ اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔
اُرفی نے بعد میں واضح کیا کہ وہ دوبارہ فلرز لگوائیں گی، لیکن اس بار قدرتی انداز میں اور صرف کسی تجربہ کار پروفیشنل سے۔
اُرفی جاوید کی یہ ایمانداری سوشل میڈیا پر خوب سراہی گئی۔ بہت سے صارفین نے انہیں سراہا کہ انہوں نے بغیر فلٹر، بغیر پردے کے کاسمیٹک پروسیجرز کے تکلیف دہ پہلو کو سب کے سامنے رکھا۔
