26 جولائی، 2025
سوات میں دریا کے کنارے پکنک منانے والے 17 افراد کی سیلاب میں ہلاکت کا معاملہ سنگین غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ نکلا۔ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی رپورٹ میں متعلقہ سرکاری اداروں کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہے۔
واقعہ 27 جون کو پیش آیا جب ایک خاندان دریا کے قریب تفریح کے لیے موجود تھا۔ اچانک پانی کا ریلہ آیا اور تمام افراد کو بہا لے گیا۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ متاثرین ایک گھنٹے تک مدد کے لیے پکار لگاتے رہے لیکن کوئی حکومتی ادارہ موقع پر نہ پہنچ سکا۔
سیاحت کا محکمہ غیر فعال، ہیلپ لائن بند
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور سیاحت کے دیگر ادارے موقع پر مکمل طور پر غیر حاضر تھے۔ نہ 1422 ہیلپ لائن نے کام کیا، نہ سیاحتی پولیس تعینات تھی اور نہ ہی کوئی سیاحتی فیسلیٹیشن سینٹر موجود تھا۔
متاثرہ افراد ایک غیر قانونی ہوٹل میں قیام پذیر تھے جو بغیر این او سی دریا کے بالکل قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ نے کسی قسم کی وارننگ یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے تھے۔
پولیس اور ریسکیو 1122 کی بھی کارکردگی ناقص قرار دفعہ 144 کے باوجود دریا کے کنارے عوامی اجتماع کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ پولیس نے خلاف ورزی پر نہ تو موثر کارروائی کی اور نہ ہی ایف آئی آرز درج کیں، جبکہ زیادہ تر مقدمات اسسٹنٹ کمشنرز کی مداخلت سے درج ہوئے۔
ریسکیو 1122 کی کارکردگی کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ واقعے کے وقت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر بغیر اجازت چھٹی پر تھے، جبکہ جائے وقوعہ پر نہ غوطہ خور پہنچ سکے، نہ حفاظتی کشتی، نہ بیلٹس۔متعدد محکمے غفلت کے مرتکب، تادیبی کارروائی شروع رپورٹ میں پولیس، مقامی حکومت، محکمہ آبپاشی، سیاحت اور ریسکیو کے اداروں کی اجتماعی ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، سابق ڈی جی ریسکیو 1122 اور دیگر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی ماہانہ نگرانی کرے گی۔
عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
