برطانوی اداکار ادریس ایلبا نے حال ہی میں ایک ایسا جملہ کہا جس نے نہ صرف لوگوں کو ہنسایا بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا: "ہم سب کو اپنے والدین سے معافی مانگنی چاہیے کہ ہم نے یقین نہیں کیا جب وہ کہتے تھے کہ تنخواہ والے دن بھی پیسے نہیں ہوتے۔”
یہ بات ادا کی گئی مزاحیہ انداز میں، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت نے لاکھوں لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خاص طور پر اُن نوجوانوں کو جو اب خود کماتے اور اخراجات کا سامنا کرتے ہیں۔
بچپن میں اکثر والدین کے "پیسے نہیں ہیں” کہنے پر ہم حیران ہو جاتے تھے، خاص طور پر جب تنخواہ ابھی ملی ہی ہوتی تھی۔ مگر اب سمجھ آتا ہے کہ وہ پیسے بجلی کے بل، راشن، بچوں کی فیس، پیٹرول اور ہنگامی ضروریات میں پلک جھپکتے ختم ہو جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس بات پر لوگوں نے خوب ردعمل دیا اور اپنی کہانیاں شیئر کیں کہ تنخواہ آتے ہی وہ کیسے بکھر جاتی ہے۔
ماہرین معیشت کا بھی کہنا ہے کہ ادریس ایلبا کی یہ بات اس غلط فہمی کو ظاہر کرتی ہے جو اکثر نوجوان نسل کو مالی ذمہ داریوں کے بارے میں ہوتی ہے — جب تک وہ خود اس کا سامنا نہ کریں۔
ادریس ایلبا کی ایک چھوٹی سی بات نے مزاح کے ساتھ ساتھ سچائی بھی بیان کر دی اور ایک پرانی، مگر ضروری معافی کو زبان دے دی۔
تو ہاں، شاید دیر ہو گئی ہو، لیکن معافی اب مقبول ہو رہی ہے شکریہ، ادریس ایلبا!
