ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چاکلیٹ میں پائے جانے والا ایک جزو اور دیگر ادویات کا نیا مرکب برڈ فلو اور سوائن فلو جیسے ذکام کی کئی اقسام کا مؤثر علاج کر سکتا ہے۔
جرنل پی این اے ایس میں شائع رپورٹ کے مطابق چاکلیٹ میں موجود تھیوبرومائن اور نسبتاً کم معروف جزو ارینوسائن ذکام کے علاج میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان کی افادیت معروف اینٹی انفلوئنزا دوا اوسلٹامیویر سے بھی زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ نیا علاج انفلوئنزا وائرس کی ایک اہم کمزوری کو نشانہ بناتا ہے، جو ایک خردبینی چینل ہے جسے وائرس اپنی نقل بنانے اور پھیلاؤ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس چینل کو بلاک کر کے وائرس کی بقا کی صلاحیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیل کلچر اور جانوروں پر کی جانے والی آزمائشوں میں اس نئے مرکب نے اوسلٹامیویر کو پیچھے چھوڑ دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مستقبل میں ایک مؤثر دوا کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔
