حیران کن مگر دلچسپ اعداد و شمار میں، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پنجاب نے ملک میں سب سے زیادہ گدھوں کی آبادی رکھنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ صوبے میں گدھوں کی تعداد 24 لاکھ 3 ہزار ہے، جو باقی تمام صوبوں کو اس ’مقابلے‘ میں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
سندھ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 10 لاکھ 81 ہزار گدھے موجود ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا 7 لاکھ 82 ہزار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ جیسے جیسے ہم مغرب کی طرف بڑھتے ہیں، مقابلہ کمزور پڑتا ہے بلوچستان میں 6 لاکھ 30 ہزار گدھے پائے جاتے ہیں۔
اور پھر آتا ہے اسلام آباد وفاقی دارالحکومت جو صرف 4 ہزار گدھوں کے ساتھ فہرست کے سب سے نچلے حصے پر ہے۔ مگر اس کے رقبے کو دیکھتے ہوئے شاید یہ تعداد بھی کافی ہے۔
جدید ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے پھیلاؤ کے باوجود، گدھے دیہی پاکستان میں آج بھی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ صرف جانور نہیں بلکہ محنتی ساتھی ہیں جو سامان ڈھونے، کھیتوں میں کام کرنے اور ان راستوں پر آمد و رفت کا ذریعہ بنتے ہیں جہاں موٹر گاڑیاں نہیں جا سکتیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گدھوں کی مسلسل موجودگی ان کی ناگزیر اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کم خرچ، مشکل زمین اور روایت اب بھی جدید ٹرانسپورٹ پر بھاری ہیں۔
رپورٹ مزاحیہ انداز میں یاد دلاتی ہے کہ دنیا چاہے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف دوڑ رہی ہو، پاکستان کے کچھ حصوں میں آج بھی گدھا بادشاہ ہے اور خوب راج کر رہا ہے۔
