دوحہ: قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 اور 15 ستمبر کو دوحہ میں ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ یہ فیصلہ اس اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کیا گیا ہے جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں حماس کے پانچ اعلیٰ عہدیدار اور قطر کا ایک سیکیورٹی اہلکار شامل تھا۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق 13 ستمبر کو وزرائے خارجہ کا ابتدائی اجلاس ہوگا، جس کے بعد سربراہانِ مملکت کی سطح پر اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس کا مقصد اسرائیلی حملے کے خلاف مشترکہ علاقائی مؤقف اپنانا اور اس کے وسیع تر اثرات پر غور کرنا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور "ریاستی دہشت گردی” قرار دیا۔ انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ قطر کی خودمختاری پر اس حملے کا اجتماعی جواب دیں۔
اجلاس کے ایجنڈے میں اسرائیلی کارروائی کے قانونی و سفارتی نتائج، غزہ میں جنگ بندی کے لیے قطر کے ثالثی کردار اور مزید اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر غور شامل ہے۔
اس حملے کا ہدف حماس کے سینئر مذاکرات کار خلیل الحیہ کے معاونین تھے جو دوحہ میں مذاکرات کے لیے موجود تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا قطر اب بھی علاقائی سفارتکاری میں غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکے گا یا نہیں۔
یہ بحران عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی علاقائی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور اسلام آباد کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
قطر اقوام متحدہ میں بھی دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
