ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا ہے۔
پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب، ہزاروں گاؤں متاثر، 101 ہلاکتیں
پنجاب میں وقوع پذیر سیلاب صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا قرار دیا گیا ہے، جس سے تقریباً 5,000 گاؤں بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور 101 افراد جان بحق ہوگئے ہیں۔ دریائے ستلج کا بہاؤ سیلابی سیزن کے دوران تین لاکھ پیناسی ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ستلج کے ساتھ ساتھ صوبے کے دو دیگر دریا بھی اسی وقت خطرناک حد تک اُونچے ہیں، جس سے سیلابی صورتحال اور گمبھیر ہو گئی ہے۔
بہاولپور، جلال پور پیر والا اور مضافاتی علاقوں میں پانی کے اخراج اور سیلابی بہاؤ نے خصوصی خطرات پیدا کیے ہیں۔ مکانات، فصلیں اور پارہدار اور دیہی بستیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، بنیادی سہولیات معطل ہیں۔
حکام نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ڈی پی ایم اے مل کر متاثرین کو عبوری رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
سندھ میں بھی سیلاب کی صورتحال سنگین ہے، دریائے سندھ کے گڈو بیراج پر بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ بہاؤ اب تقریباً 537,000 کیوسک پر پہنچ چکا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ اس سال تین دریا—ستِلج اور دیگر دو—بیک وقت خطرناک حد تک بھرے ہیں، جس سے ماضی کے مقابلے سیلاب کی شدت اور رُخ دونوں بدل گئے ہیں۔
