وزیراعظم شہباز شریف نے لندن روانگی سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ
گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اسرائیلی کارروائیوں کے باعث کشیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دفاعی تعاون دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گا اور خطے کی سلامتی پر گہرا اثر ڈالے گا۔
نواز شریف کو بریفنگ اور خصوصی پیغام
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران نواز شریف کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔ اگرچہ پیغام کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں، لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا عندیہ ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ کو قریب رکھنا چاہتی ہے۔
نواز شریف ان دنوں جنیوا میں اپنے طبی معائنے کے سلسلے میں موجود ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کی بریفنگ کو نہایت توجہ سے سنا۔ پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملاقات کا مقصد صرف معاہدے کی تفصیلات بتانا نہیں تھا بلکہ نواز شریف کو تازہ علاقائی پیش رفت سے بھی باخبر رکھنا تھا۔
لندن کا دورہ
ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف لندن روانہ ہوگئے جہاں وہ چار روز قیام کریں گے۔ دورے کے دوران ان کی برطانوی حکام، کاروباری رہنماؤں اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
نئی سمت یا پرانا رشتہ مزید گہرا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کے فوجی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے نئے خد و خال بھی متعین کر سکتا ہے۔
