کراچی کی معروف سماجی کارکن اور ایشا چندریگڑ فاؤنڈیشن (ACF) کی بانی عائشہ چندریگڑ نے پاکستان بھر میں پیٹ مارکیٹس پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب لاہور کے بھاٹی چوک میں ایک پیٹ مارکیٹ کی مسماری کے دوران متعدد جانوروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ان مارکیٹس میں جانوروں کو تنگ پنجرے، بھوک، بیماری اور خوف کے درمیان زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر دکاندار جانتے ہیں کہ جانوروں کو اس حالت میں رکھنا ظلم ہے، لیکن کاروبار کے لالچ میں وہ ایسا کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اکثر جانور کھلونا سمجھ کر بچوں کے لیے خریدے جاتے ہیں، اور جب بچے کی دلچسپی ختم ہوتی ہے تو ان جانوروں کو واپس کر دیا جاتا ہے یا بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عائشہ کی رائے میں اگر جانوروں کی اذیت کو واقعی ختم کرنا ہے تو اس کا واحد حل پیٹ مارکیٹس پر پابندی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ محض لاہور کی ایک کارروائی تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کے بگاڑ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں نہ مناسب قوانین ہیں، نہ نگرانی، نہ ذمہ داری۔
ان کے اس مطالبے نے ملک میں اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سرکاری ادارے جانوروں کے کاروبار کو دوبارہ منظم کریں گے یا سخت قوانین نافذ کریں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ فلاحی ادارے جیسے ACF ان متاثرہ یا ترک کیے گئے جانوروں کی بحالی کے لیے اپنے اقدامات میں کس حد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔
عوامی ردِعمل اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی آوازیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جانوروں کی فلاح کا مسئلہ اب پہلے کی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
