کراچی: سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے مرحومہ اداکارہ عائشہ خان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بچوں پر لگنے والے الزامات کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا ہے۔
ایک دل کو چھو لینے والی ویڈیو میں بشریٰ انصاری نے نہ صرف عائشہ خان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا بلکہ سوشل میڈیا پر بچوں پر کی جانے والی تنقید کو بھی رد کیا۔ یاد رہے کہ 20 جون کو کراچی میں عائشہ خان کی لاش ان کے گھر سے ملی تھی، اور پولیس کے مطابق یہ لاش ایک ہفتے پرانی تھی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے عائشہ کے بچوں پر تنقید کی کہ انہوں نے اپنی والدہ کو تنہا چھوڑ دیا۔ تاہم، بشریٰ انصاری نے کہا کہ بغیر مکمل حقائق جانے لوگوں کو الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
بشریٰ نے انکشاف کیا کہ عائشہ خان نے خود یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیرون ملک نہیں رہنا چاہتیں، حالانکہ بچے انہیں بار بار بلاتے تھے۔ ان کے مطابق، عائشہ کے پانچ یا چھ بچے مختلف ممالک میں مقیم تھے، جو انہیں مالی مدد فراہم کرتے اور ہر ممکن سہولت دیتے تھے۔
بشریٰ کے بقول، عائشہ خان کو کراچی میں اپنا گھر اور دوستوں کا ساتھ پسند تھا۔ وہ ایک ملازمہ کے ساتھ رہتی تھیں جو ان کے کھانے پینے اور کاموں میں مدد کرتی تھی۔ وہ اکثر اپنی زندگی سے خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔
بشریٰ نے اعتراف کیا کہ شاید بچے کچھ دن تک رابطہ نہ رکھنے میں غفلت کے مرتکب ہوئے ہوں، لیکن انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیرضروری تنقید سے باز رہیں۔ اس کے باوجود، کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر بچے اور دوست قریبی تھے، تو اتنے دن تک ان کی غیر موجودگی کا کسی کو علم کیوں نہ ہو سکا؟
عائشہ خان کی موت کے محرکات پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ عوامی ردعمل اور قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔
