کراچی – پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سینئر اداکار محمود اختر نے حالیہ گفتگو میں اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ملکی ڈراموں پر مغربی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں اور بعض غیر ملکی ادارے مخصوص موضوعات پر مبنی مواد کے لیے فنڈنگ کر رہے ہیں۔
اداکار نے کہا کہ انہوں نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ڈرامہ سازی کے کئی ادوار دیکھے، تاہم موجودہ دور میں کہانیوں کا رخ تشویشناک انداز میں بدل رہا ہے اور ڈرامے مغربی طرز اور اقدار کو اپناتے جا رہے ہیں۔
محمود اختر کے مطابق پاکستانی ڈرامے ماضی میں حقیقت پسندی اور مضبوط کہانیوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، بعد ازاں ڈائجسٹ کہانیوں کی مقبولیت نے مواد میں تبدیلی پیدا کی، لیکن اب صورتحال اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ مغربی ادارے مخصوص موضوعات پر ڈرامے بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسی اقدار اور رویے فروغ پا رہے ہیں جو پاکستانی معاشرتی اور ثقافتی روایات کے منافی ہیں۔
اداکار نے اس رجحان پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ڈرامہ نگاروں اور پروڈیوسرز کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستانی ڈرامے اپنی اصل شناخت برقرار رکھ سکیں۔
