ستمبر 2025,14
ویب ڈیسک
دوحہ: عرب اور اسلامی ممالک کے رہنما پیر کو دوحہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں خبردار کریں گے کہ قطر پر اسرائیلی حملہ اور دیگر "جارحانہ اقدامات” خطے میں بقائے باہمی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ اجلاس قطر کے ساتھ یکجہتی کے طور پر بلایا گیا ہے، جب کہ 9 ستمبر کو اسرائیلی حملے میں فلسطینی تنظیم حماس کے پانچ ارکان جاں بحق ہوئے تھے۔
غیرملکی وزرائے خارجہ کی تیار کردہ مسودہ قرارداد کے مطابق، "قطر پر اسرائیلی بربریت اور اسرائیل کے جاری جرائم، بشمول نسل کشی، جبری بے دخلی، بھوک، محاصرہ اور نوآبادیاتی پالیسیوں، خطے میں امن اور بقائے باہمی کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔”
مسودے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اسرائیل کے ساتھ موجودہ اور آئندہ تعلقات معمول پر لانے کے تمام معاہدوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
اسرائیل پر گزشتہ دو برسوں سے جاری غزہ آپریشن میں 64 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا الزام ہے، تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے۔
قطر نے اسرائیلی حملے کو "ریاستی دہشتگردی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات دوحہ کی ثالثی کوششوں کو نہیں روک سکتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حملے پر ناراضی کا اظہار کیا اور قطری قیادت کو یقین دلایا کہ "ایسا دوبارہ ان کی سرزمین پر نہیں ہوگا۔”
