اسلام آباد: چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے چین کی مبینہ مدد کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "کیمپ سیاست کی ناکام کوشش” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان کے خلاف حالیہ جنگ کو جواز دینے کے لیے بیرونی ممالک کو اس میں شامل کرنا غیر سنجیدہ، جھوٹ پر مبنی اور علاقائی تناؤ کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔”
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ریمارکس نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں نیشنل سیکیورٹی اور وار کورس کے گریجویٹ آفیسرز سے خطاب کے دوران دیے۔ انہوں نے کہا کہ "بھارت کا الزام کہ چین نے پاکستان کو حساس معلومات فراہم کیں، دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور علاقائی طاقت کا دکھاوا کرنے کی ناکام کوشش ہے۔”
بھارتی لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کو بھارت کی اہم عسکری تنصیبات سے متعلق ’لائیو ان پٹس‘ فراہم کیے۔ تاہم پاکستانی حکام ان دعوؤں کو ماضی میں بھی مسترد کر چکے ہیں اور اب آرمی چیف نے ان الزامات کو "ناقابل قبول اور زمینی حقائق کے منافی” قرار دیا ہے۔
فیلڈ مارشل منیر نے واضح کیا کہ "آپریشن بنیان المرصوص” پاکستان کا ایک خالصتاً مقامی عسکری منصوبہ تھا جس میں ملکی اداروں کی دہائیوں پر محیط تربیت، حکمت عملی اور خود انحصاری جھلکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور میں اپنے اہداف حاصل نہ کرنے کے بعد اب الزامات کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی عسکری منصوبہ بندی اور تیاری میں واضح کمزوریاں موجود ہیں۔
آرمی چیف نے خبردار کیا کہ "اگر کسی نے پاکستان کی خودمختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو اس کا جواب فوری، فیصلہ کن اور شدید ہو گا۔” ان کا کہنا تھا کہ آبادی والے علاقوں، عسکری تنصیبات یا معاشی مراکز کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش پر "انتہائی دردناک اور دوگنا جواب” دیا جائے گا۔
عاصم منیر نے کہا کہ جنگیں میڈیا پروپیگنڈے یا درآمد شدہ اسلحے سے نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، قومی یکجہتی، اور ادارہ جاتی مضبوطی سے جیتی جاتی ہیں۔
انہوں نے گریجویٹنگ آفیسرز پر زور دیا کہ وہ آئندہ چیلنجز کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں اور دیانتداری، قربانی اور قوم سے بے لوث وفاداری کی اقدار پر ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مستقبل کے قومی قائدین کو تربیت دینے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
