اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے ملک کی چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی مستقل تقرریوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی سربراہی کے لیے جسٹس جنید غفار کا انتخاب کیا گیا ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس روزی خان بریچ جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس عتیق شاہ کو مقرر کیا گیا ہے۔
یہ اہم عدالتی تقرریاں اس وقت عمل میں آئیں جب گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) نے چاروں ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی نامزدگی کی منظوری دی تھی۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جج صاحبان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں جسٹس سرفراز ڈوگر کی بطور قائم مقام چیف جسٹس تقرری اور دیگر تین ججوں کی منتقلی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
یہ درخواستیں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، اور جسٹس سمن رفت امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
تاہم، سپریم کورٹ نے 19 جون کو ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر کو قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر فرائض انجام دینے کی اجازت دے دی۔
اس کے بعد صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا "سینئر ترین جج” قرار دیتے ہوئے وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ نئی سینیارٹی لسٹ کے مطابق ان کی مستقل تقرری کی منظوری دی۔
اس فیصلے کے خلاف پانچوں جج صاحبان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ 19 جون کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب عبوری ریلیف دیا جائے۔
