کرسٹ چرچ: ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز نے 202 ناقابلِ شکست کی یادگار ڈبل سنچری کے ساتھ پہلی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی ٹیم کو ڈرامائی ڈرا دلوا دیا۔ 531 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم نے 457-6 تک رسائی حاصل کی، جو ٹیسٹ کرکٹ کی دوسری سب سے بڑی چوتھی اننگز ہے۔
گریوز نے تقریباً 10 گھنٹے تک مزاحمت جاری رکھی اور 388 گیندوں کا سامنا کیا۔ دوسری جانب شی ہوپ نے 140 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پانچویں وکٹ پر 196 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔
اختتامی سیشن میں کیمار روچ نے کیریئر کی بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے 58 ناٹ آؤٹ بنائے اور 72 گیندیں سنبھال کر ٹیم کو یقینی شکست سے نکال لیا۔ روچ اور گریوز نے 180 رنز کی دلیرانہ ساتویں وکٹ کی شراکت قائم کی۔
72-4 پر مشکلات میں گھری ویسٹ انڈیز کو نیوزی لینڈ کے زخمی باؤلرز نے نئی زندگی دی۔ میٹ ہنری اور نیتھن اسمتھ کے باہر ہو جانے کے باعث حملہ صرف جیکب ڈفی اور فولکس تک محدود رہا، جو اپنے کیریئر کے صرف دوسرے ٹیسٹ میں تھے۔
پچ بھی اسپنرز کے لیے مددگار نہ رہی، جس نے گریوز اور ہوپ کو کھیل کو اپنے انداز میں طول دینے اور تاریخ ساز مزاحمت کرنے کا موقع دیا۔
ویسٹ انڈیز نے صرف ایک میچ نہیں بچایا — اس نے جرات، برداشت اور خالص ٹیسٹ کرکٹ کی روح کو دوبارہ زندہ کر دیا
