دل کا خاموش دشمن ہائی کولیسٹرول ہے جو نہایت خطرناک مگر خاموش طبی مسئلہ ہے جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں پنپتا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اکثر افراد کو اس وقت تک اس کا علم نہیں ہوتا جب تک یہ دل، دماغ یا دیگر اہم اعضاء کو متاثر نہ کر دے۔
کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں پایا جاتا ہے۔ یہ دو ذرائع سے حاصل ہوتا ہے
پہلا، اسے جگر خود تیار کرتا ہے اور دوسرا یہ خوراک کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، خصوصاً گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ سے بنی اشیاء سے۔
کولیسٹرول کی اچھی اور بری دو اقسام ہیں:
اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) جو اضافی کولیسٹرول کو خون سے صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اور برا کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) یہ خون کی شریانوں کی دیواروں سے چپک کر انہیں تنگ کر سکتا ہے۔
کولیسٹرول جسم کے لیے ضروری بھی ہے کیونکہ یہ ہارمونز کی تیاری، خلیوں کی جھلیوں کی مضبوطی اور وٹامن ڈی بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ تاہم جب اس کی سطح حد سے بڑھ جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
اسے "خاموش قاتل” کیوں کہا جاتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق ہائی کولیسٹرول عموماً درد، تھکن یا کمزوری جیسی فوری علامات پیدا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے "خاموش بیماری” کہا جاتا ہے۔
جب خون میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی ہے تو یہ شریانوں کی دیواروں میں جمع ہو کر ایک سخت تہہ بنا لیتا ہے جسے ایتھروسکلروسیس کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں شریانیں تنگ اور سخت ہوجاتی ہیں۔
اگر خون کا بہاؤ شدید متاثر ہو جائے تو مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے کہ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، ٹانگوں میں درد، ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ ۔۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تاہم، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ بعض بیماریوں میں مبتلا افراد کو ہر سال یا 6 ماہ میں ایک بار لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے۔
لپڈ پروفائل ٹیسٹ جن لوگوں کو کرانا چاہئے ان میں سرفہرست ذیابیطس کے مریض ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے سے متاثرہ افراد، سگریٹ نوشی کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ بعض مریضوں کو ہر چھ ماہ بعد جبکہ دیگر کو سال میں کم از کم ایک بار ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ہائی کولیسٹرول سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
1۔ متوازن غذا:
چکنائی والی دودھ کی مصنوعات اور سرخ گوشت کا استعمال کم کریں۔ فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے جئی، دالیں اور سیب کھائیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو خوراک میں شامل کریں۔
2۔ انڈے کے استعمال میں احتیاط:
انڈے کی سفیدی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں چکنائی نہیں ہوتی، تاہم زردی کا زیادہ استعمال محدود رکھیں۔
3۔ تیز چہل قدمی:
روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز واک اچھے کولیسٹرول کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
4۔ باقاعدہ ورزش:
ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں معاون ہے۔
5۔ باقاعدہ ٹیسٹ:
چونکہ ہائی کولیسٹرول کی کوئی واضح علامت نہیں ہوتی، اس لیے خون کا باقاعدہ ٹیسٹ ہی اس کی تشخیص کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔
