ڈینمارک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) وسطی اور جنوبی ایشیا میں تیزی سے ایک ’’سنگین خطرے‘‘ کے طور پر ابھر رہی ہے، اور اس گروہ کو افغان عبوری حکام کی ’’عملی اور بھرپور معاونت‘‘ حاصل ہے۔ سلامتی کونسل کے داعش اور القاعدہ پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی چیئر کے طور پر خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے بتایا کہ افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں جو پاکستانی سرزمین پر بڑے حملوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ داعش، القاعدہ اور ان کے وابستہ گروہوں کے خطرات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق داعش خراسان کے کم از کم دو ہزار جنگجو افغان حکام، شیعہ کمیونٹیز اور غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ افریقہ میں ڈیش سے منسلک گروہ، خصوصاً آئی ایس ڈبلیو اے پی، اپنی کارروائیاں اور پروپیگنڈا وسیع کر رہے ہیں۔
پاکستان کے نائب مستقل نمائندے عثمان جدون نے بھی افغانستان سے جنم لینے والی شدت پسندی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کیں اور بھاری معاشی نقصان برداشت کیا۔ جدون کے مطابق ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہ اب بھی افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے 1267 پابندیوں کے نظام کو حقائق کے مطابق، شفاف اور غیر جانب دار بنانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان–افغانستان مذاکرات تعطل کا شکار
دوسری جانب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والی بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر رک گئی ہے۔ ترک حکام کی ثالثی کے باوجود طالبان مذاکرات کار پاکستان کے مطالبات پر تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا واضح اور منطقی مطالبہ کیا تھا، جسے افغان فریق قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔
پاکستان نے سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام زمینی سرحدی راستے غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق جب تک افغان عبوری حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف ’’قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی‘‘ کارروائی نہیں کرتی، تجارت اور نقل و حرکت بحال نہیں ہوگی۔ کئی ہفتوں سے جاری اس بندش کے باعث ہزاروں ٹرک اور کنٹینرز دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں، جس سے دو طرفہ تجارت اور خطے کی ٹرانزٹ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ البتہ افغان مہاجرین اور پھنسے ہوئے افراد کی واپسی کے لیے انسانی بنیادوں پر ایک طرفہ آمدورفت کی اجازت برقرار ہے۔
سرحد پر کشیدگی میں اضافہ
12 اکتوبر کو افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک افغان سرحد پر شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد افغان اہلکاروں اور جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ دراصل ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں—جنہیں ریاست خوارج قرار دیتی ہے—کو پاکستانی حدود میں داخل کرانے کی کوشش تھی۔
