اسر-ائیلی فضائیہ نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جنہیں اسرائیل نے حزب اللہ کے مبینہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اقدام قرار دیا، حالانکہ ایک سال قبل طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان طویل لڑائی ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج نے بمباری سے قبل متعدد دیہاتوں، جن میں عیتا الجبل، الطیبہ اور طیر دبہ شامل ہیں، کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے اور رہائشیوں کو ہدایت دی کہ وہ مخصوص مقامات سے 500 میٹر دور رہیں۔
حملوں کے بعد آسمان دھوئیں کے گہرے بادلوں سے بھر گیا، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا کہ کہیں دوبارہ بھرپور جنگ نہ چھڑ جائے۔ "ہم بہت خطرناک صورتحال میں ہیں… کوئی نہیں جانتا کہ یہ سب کہاں جا کر رکے گا،” طیر دبہ کے میئر فرید ناحنوح نے کہا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ 2023-24 کی جنگ میں اپنی کمزور ہوئی عسکری طاقت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بیڈروسیان نے کہا، "اسرائیل اپنی سرحدوں کا دفاع جاری رکھے گا اور جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ ہم حزب اللہ کو دوبارہ مسلح ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔”
دوسری جانب حزب اللہ نے کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پابند ہے لیکن اسے اسرائیلی جارحیت کے خلاف "قانونی مزاحمت کا حق” حاصل ہے۔ تنظیم نے مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالے مگر گزشتہ سال معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کے عبوری امن مشن (UNIFIL) نے اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی واضح خلاف ورزی قرار دیا، جو لبنان-اسرائیل سرحد پر امن قائم رکھنے کے لیے منظور کی گئی تھی۔ ادارے نے اسرائیل سے فوری طور پر حملے روکنے اور فریقین سے صورتحال کو مزید بگاڑنے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
لبنانی فوج نے بھی ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "دشمن کی وہی تباہ کن پالیسی ہے جس کا مقصد لبنان کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور جنوبی علاقوں میں تباہی پھیلانا ہے۔”
یہ فضائی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب بیروت میں کابینہ کا اجلاس جاری تھا، جہاں فوجی سربراہ روڈولف ہائیکل نے حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو ضبط کرنے کی تازہ پیش رفت پر بریفنگ دی۔ فوج کا کہنا ہے کہ سال کے اختتام تک جنوبی لبنان سے غیر ریاستی ہتھیاروں کا صفایا ممکن ہو جائے گا۔
جمعرات کے حملوں میں جنوبی لبنان کے قصبے عباسیہ میں ایک آہن گری (لوہار کی دکان) مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ دکان کے مالک احمد الکیال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ دکان پانچ سے چھ خاندانوں کا سہارا تھی۔ بھائی، ایک لوہار کیا بناتا ہے؟ دروازے، کھڑکیاں، کرسی، میز… یہ تو زندگی کی ضروری چیزیں ہیں۔”
جنوبی لبنان پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں نے خطے میں دوبارہ جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جو نہ صرف گزشتہ سال کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ لبنان کی فوجی کوششوں سے حاصل ہونے والی نازک امن کی فضا کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
