بغداد: پاکستان اور عراق نے اتوار کے روز دہشت گردی، انتہاپسندی اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ تجارت، سیکیورٹی اور عوامی روابط کے فروغ کا بھی عزم کیا گیا۔
یہ اتفاق رائے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید کے درمیان بغداد پیلس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا، جسے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر زرداری نے عراق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور عراق کے امن، استحکام اور جمہوری ترقی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کامیاب پارلیمانی انتخابات پر عراقی قیادت اور عوام کو مبارکباد بھی دی اور نئی حکومت کی ہموار تشکیل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور عراق کے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور حالیہ اعلیٰ سطحی روابط، جن میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس اور پارلیمانی تبادلے شامل ہیں، پر اطمینان کا اظہار کیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے تعلقات کی حقیقی صلاحیت کا عکاس نہیں۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، دفاعی پیداوار، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے کاروبار سے کاروبار روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے باہمی کاروباری وفود کے تبادلے اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے براہِ راست بینکاری چینلز کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ صدر زرداری نے موجودہ معاہدے کے تحت ہنر مند اور نیم ہنر مند افرادی قوت فراہم کر کے عراق کی تعمیرِ نو میں پاکستان کے تعاون کی پیشکش کی۔
صدر نے طبی سہولیات، مالیاتی مہارت اور ڈیجیٹل گورننس میں پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے تکنیکی تعاون اور تجربات کے تبادلے کی پیشکش بھی کی، جن میں محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ شامل ہے۔
مذہبی زیارات کے حوالے سے صدر زرداری نے عراق میں پاکستانی زائرین کے لیے بہتر سہولیات کی درخواست کی اور زائرین مینجمنٹ سے متعلق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے اور نافذ کرنے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے عراقی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی شہریوں کے غیر قانونی داخلے اور قیام کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
دونوں صدور نے انتہاپسندی، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت علاقائی اور عالمی فورمز پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید نے عالمِ اسلام میں اتحاد کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور فلسطینی عوام کے لیے اس کی تاریخی حمایت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس سے قبل صدر زرداری کو بغداد پیلس آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دورے کے دوران انفرادی ملاقات، وفود کی سطح پر مذاکرات اور عراقی صدر کی جانب سے ظہرانہ بھی دیا گیا۔ صدر زرداری نے عراقی قیادت اور عوام کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بغداد کو تہذیب اور استقامت کی علامت قرار دیا۔
صدر کے ہمراہ سینیئر پاکستانی سیاسی رہنما، سینیٹرز، صوبائی وزرا اور عراق میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔
