اسلام آباد: ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ (پی اے ایف) نے اپنی تیز، ہم آہنگ اور فیصلہ کن کارروائی سے دنیا کو حیران کر دیا۔
پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ایئرچیف نے بتایا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ اور ’’بنیانِ مرصوص‘‘ کے دوران انجام دی گئی کارروائیوں نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک علاقائی استحکام کا مرکزی ستون بن چکا ہے، حالانکہ دشمن عددی برتری رکھتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی اے ایف نے پہلی بار ’’فل اسپیکٹرم، ملٹی ڈومین آپریشن‘‘ انجام دیا جس میں خلائی نظام، سائبر آپریشنز، الیکٹرانک وارفیئر، کیمیکلز، لمبے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار، قاتل ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام شامل تھے۔
ایئرچیف کے مطابق 6 اور 7 مئی کو پاک فضائیہ نے جدید بھارتی لڑاکا طیاروں رفال، ایس یو-30 ایم کے آئی، میراج 2000، مگ-29 کے ساتھ متعدد ڈرون اور یو اے ویز مار گرائے، جو جدید فضائی تاریخ کی شدید ترین بی وی آر (Beyond Visual Range) لڑائیوں میں سے ایک تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت کی پیشگی کارروائی کے جواب میں پاکستان نے 10 مئی کو شمالی اور جنوبی بھارتی علاقوں میں دشمن کے اہداف پر گہرے حملے کیے، جن میں ایس-400 فضائی دفاعی نظام اور کئی اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز تباہ کیے گئے۔
ایئرچیف نے کہا کہ یہ کامیابی قومی اتحاد، مضبوط حکمتِ عملی، اللہ کے فضل اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اگر دوبارہ ہماری خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو دشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور پی اے ایف کا سامنا ہوگا۔
ایئرچیف نے مزید کہا کہ 2025 کی کارروائیوں نے فضائیہ کی طویل عرصے سے جاری جدید کاری، تنظیمِ نو اور آپریشنل جدت کو واضح کر دیا ہے، جو پاکستان کی فضائی طاقت اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔
تقریب میں سعودی کیڈٹس کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاک سعودی دفاعی تعاون کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انہوں نے گریجویٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اب وطن کی فضائی سرحدوں کا دفاع ان کی ذمہ داری ہے۔
تقریب میں پی اے ایف کے لڑاکا طیاروں کی فلائی پاسٹ اور شیر دل ایروبیٹکس ٹیم کے شاندار مظاہرے نے فضائیہ کی مہارت، نظم و ضبط اور آپریشنل تیاری کو اجاگر کیا۔
