اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر مکمل طور پر عمل کرے، کیونکہ نئی دہلی کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ’’مشترکہ قدرتی وسائل کے ہتھیار کے طور پر استعمال‘‘ کے مترادف ہے جو خطے کے ماحول اور لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات کے ماحولیاتی اثرات اور ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سیکیورٹی خطرات پر بریفنگ دیتے ہوئے، پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بھارت کا اقدام ایک ایسے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو چھ دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بھارت کا غیر قانونی یکطرفہ فیصلہ نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ ڈیٹا کے تبادلے کو بھی متاثر کرتا ہے اور ان لاکھوں لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے جو اپنی خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے ان دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘
سفیر عاصم افتخار نے یاد دلایا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ، جو عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، دریائے سندھ کے چھ دریا دونوں ممالک میں تقسیم کرتا ہے مغربی دریا پاکستان اور مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے طویل عرصے سے اختلافات کا باعث ہیں، اور ان تنازعات پر ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت (PCA) نے رواں سال فیصلہ دیتے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر درست قرار دیا اور واضح کیا کہ کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل نہیں کر سکتا۔
’’معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دی گئی،‘‘ عاصم افتخار نے زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ بھارت معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے باہمی تعاون کے نظام کی بحالی یقینی بنائے گا۔‘‘
انہوں نے ماحولیات اور سیکیورٹی کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلح تنازعات اور ماحولیاتی دباؤ، خصوصاً سمندری سطح میں اضافہ، کمزور ممالک کے لیے وجودی خطرات بن چکے ہیں۔ پاکستان کے سفیر نے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ تنازعات کے ابتدائی مراحل میں روک تھام، امن مشنز میں ماحولیاتی تحفظ، اور جنگ کے بعد ماحولیاتی بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
انہوں نے نئی، باضابطہ اور گرانٹ پر مبنی مالی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ماحولیاتی نقصان کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ’’ماحولیاتی تباہی محض جنگ کا ضمنی نقصان نہیں، بلکہ یہ عدم استحکام کا ایک بڑا محرک بن سکتی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
شام پر اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی حمایت
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اُس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے تحت شامی صدر احمد الشراع اور وزیر داخلہ انس خطّاب کے نام 1267 پابندیوں کی فہرست سے خارج کیے گئے ہیں۔
پاکستان نے اس اقدام کو شام میں سیاسی استحکام، ادارہ جاتی بحالی اور معاشی تعمیرِ نو کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے بعد شام کو پائیدار ترقی کے راستے پر واپس لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ شامی قیادت کے تحت سیاسی عمل اور مسلسل مکالمہ بھی ضروری ہے۔
’’شامی عوام ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مصائب کا شکار ہیں۔ آج کا ووٹ اُن کے امن و استحکام کی طرف ایک مثبت پیشرفت ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
عاصم افتخار نے دہشت گردی کے خطرات اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شام پر زور دیا کہ وہ اپنی مرکزی حکومت کو مزید مضبوط بنائے اور ملک میں مکمل استحکام لائے۔
پاکستان نے ایک بار پھر شام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جامع قومی تعمیر اور سیاسی مفاہمت کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ شام اپنے شہریوں کے لیے پائیدار امن اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنا سکے۔
