مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران-اسر@ئیل جنگ میں امریکا نے کھل کر مداخلت کرتے ہوئے ایران کے تین بڑے نیوکلیئر مراکز پر بمباری کر دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات اعلان کیا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے فوردو، نطنز اور اصفہان کے قریب واقع ایٹمی تنصیبات پر مکمل حملہ کیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا:
“تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں، فوردو پر مکمل بمباری کی گئی، اور ہمارے تمام طیارے محفوظ طریقے سے واپس لوٹ رہے ہیں۔”
یہ حملے ایران کے ان حساس ترین مقامات پر کیے گئے جہاں یورینیم کی افزودگی کی جاتی ہے — وہی مواد جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہےحملوں کا ہدف: ایران کا ایٹمی پروگرام
-
فوردو: ایک پہاڑ کے نیچے قائم سخت حفاظتی مرکز، جو اب بھی مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔
-
نطنز: ایران کا سب سے بڑا افزودگی مرکز، چند روز قبل اسر@ئیل کے حملے کا نشانہ بھی بن چکا تھا۔
-
اصفہان کے قریب مقام: یہاں تقریباً ایٹم بم کے قابل یورینیم ذخیرہ کیا گیا تھا، جسے بین الاقوامی معائنہ کاروں نے دو ہفتے قبل دیکھا تھا۔
اسر@ئیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو “کم از کم دو سے تین سال پیچھے دھکیل دیا ہے”۔
ایران کا ردعمل
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔ "ہم بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہیں،” انہوں نے کہا، "لیکن دفاعی ردعمل جاری رہے گا۔”
ہفتے کا دن: حملے، میزائل، ڈرون، اور قتل
-
اسر@ئیل نے ایران کے میزائل مراکز، گولہ بارود کے ذخیرے اور نیوکلیئر تنصیبات پر وسیع پیمانے پر حملے کیے۔
-
ایران نے بیلسٹک میزائل داغے اور ڈرونز کے ذریعے اسر@ئیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔
-
ایرانی پاسداران انقلاب کے تین اعلیٰ کمانڈر — محمد سعید ایزادی، بہنام شہریاری، اور امین پور جودکی — مبینہ طور پر اسر@ئیلی حملے میں ہلاک ہوگئے۔ ایران نے ابھی تک ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
امریکیوں کا انخلاء شروع
امریکی سفیر مائیک ہکابی کے مطابق، امریکا نے اسر@ئیل اور مغربی کنارے سے اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔ امریکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ انخلا کے لیے فارم پُر کریں۔ انخلا ممکنہ طور پر کروز شپ، تجارتی پرواز، یا امریکی حکومت کے خصوصی طیارے کے ذریعے کیا جائے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر ٹرمپ مزید حملوں کا حکم دیتے ہیں، تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے جس کے نتائج دنیا بھر پر مرتب ہوں گے۔
متوقع ردعمل میں:
-
خلیج فارس میں کشیدگی
-
شام، عراق، اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی جوابی کارروائیاں
-
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
عالمی طاقتوں کی جانب سے سخت سفارتی کوششیں
