"سیف سٹی کا سامان بلاول ہاؤس کے قریب چوری”
کراچی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب قیمتی ڈسٹری بیوشن بکسز بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب سے چوری کر لیے گئے، جس نے شہر کے سیکیورٹی منصوبے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل سیف سٹیز اتھارٹی عاصف اعجاز شیخ کے مطابق یہ بکسز نگرانی کرنے والے کیمرہ سسٹم سے منسلک تھے، جن کے چوری ہونے کے بعد متعلقہ کیمرے غیر فعال کر کے ہٹا دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل سے قبل ہی پیش آیا۔
تقریباً 3 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے کا مقصد کراچی میں 1300 کیمرے نصب کر کے جرائم پر قابو پانا اور ای چالان سسٹم کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی کرنا تھا۔ تاہم اس واقعے نے منصوبے کی سیکیورٹی اور نگرانی پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق چوری ہونے والے آلات میں کسی قسم کا سیکیورٹی یا الارم سسٹم موجود نہیں تھا، جس کے باعث چوری کے وقت اور تاریخ کا تعین ممکن نہیں ہو سکا۔ پولیس عینی شاہدین کے بیانات اور قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے کا وقت معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق چند افراد کو ایک گاڑی میں آتے اور بکسز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا گیا۔ سیف سٹی انتظامیہ نے یہ واقعہ 6 نومبر کو پولیس کو رپورٹ کیا اور بتایا کہ واقعے کے وقت کیمرے پہلے ہی غیر فعال تھے۔
عاصف اعجاز شیخ نے کہا کہ "یہ افسوسناک واقعہ اس منصوبے پر بداعتمادی پیدا کرتا ہے جو کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔”
پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ تمام اضلاع کے افسران کو سیف سٹی تنصیبات کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
