اسلام آباد : ترکی نے جمعرات کو بھارتی میڈیا کی اُن خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں انقرہ کو دہلی کے لال قلعے کے قریب کار دھماکے سے جوڑا گیا تھا۔ ترکی نے ان الزامات کو بے بنیاد، گمراہ کن اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔
پیر کے روز ہونے والے دھماکے میں ابتدائی طور پر 8 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہوگئی۔ بھارتی حکام نے واقعے کو دہشت گردی کا حملہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے یقین دہانی کرائی کہ حملہ آوروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بھارتی میڈیا کے الزامات کے جواب میں ترکی کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز نے وضاحت کی کہ انقرہ کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ بھارت یا کسی ملک کے خلاف سرگرم گروہوں کی مدد یا انتہا پسندی میں ملوث ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ “ترکی دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔ بھارت کے خلاف انتہاپسندی یا سلیپر سیلز سے متعلق دعوے غلط، گمراہ کن اور حقائق سے عاری ہیں۔”
ترکی نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں، بالخصوص ایسے وقت میں جب دھماکے سے متاثرہ خاندان حقائق اور انصاف کے منتظر ہیں۔
