اسلام آباد : پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان نے پیشکش کی ہے کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا:
’’عمران خان کا پیغام ہے کہ مجھے پیرول پر رہا کرو، میں آپ کے لیے افغانستان کا مسئلہ حل کر دوں گا۔‘‘
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک-افغان سرحد پر گزشتہ دنوں جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جس کے بعد افغان طالبان کی درخواست پر پاکستان نے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
عمران خان کی ہمشیرہ نورین نِیازی نے بھی بتایا کہ عمران افغان مہاجرین کی جلد بازی میں واپسی سے افسردہ ہیں۔ ’’وہ کہتے ہیں کہ امن قائم کرنا سیاست دانوں کا کام ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اگر انہیں پیرول پر رہائی ملے تو وہ اس مقصد کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان ملک کی بگڑتی معاشی اور سیاسی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ’’وہ کہتے ہیں کہ امن صرف سیاسی استحکام سے آتا ہے،‘‘ نورین نِیازی نے بتایا۔ تاہم، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت ان کی اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گی۔
ادھر عمران خان کے تصدیق شدہ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل افغان حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے بغیر ممکن نہیں۔
’’دہشت گردی کے مسئلے کا واحد حل افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ہے،‘‘ بیان میں کہا گیا، ’’تمام متعلقہ فریقین — قبائلی عمائدین، خیبر پختونخوا حکومت، وفاقی حکومت اور افغان حکومت — کو مل کر طویل المدتی حکمتِ عملی بنانی ہوگی تاکہ پائیدار امن قائم ہو سکے۔‘‘
