واشنگٹن: امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت غزہ میں ایک کثیرالقومی استحکام فورس (International Stabilization Force – ISF) کے قیام کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے کا حصہ ہے، سی این این نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتایا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ فورس غزہ کی غیر عسکریت اور ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کی تربیت میں مدد دے گی۔ تاہم، امریکی فوجی براہِ راست غزہ میں تعینات نہیں ہوں گے بلکہ علاقہ سے باہر رہ کر آپریشنز کی ہم آہنگی کریں گے۔
قرارداد کا ابتدائی مسودہ سلامتی کونسل کے اراکین کو بھیجا جا چکا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اسی صورت میں اس مشن کا حصہ بنیں گے جب اسے اقوام متحدہ کی باضابطہ منظوری حاصل ہو۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ماہ اپنے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ ممکنہ شریک ممالک کسی بھی کارروائی سے قبل ایک واضح بین الاقوامی فریم ورک، یعنی اقوام متحدہ کی قرارداد یا بین الاقوامی معاہدے، کی شرط رکھتے ہیں۔
ایک بار فورس کے قیام کے بعد، ISF ایک متحدہ کمان کے تحت اسرائیل اور مصر کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔ امریکہ نے جنوبی اسرائیل میں ایک کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کر دیا ہے جو جنگ بندی منصوبے کے اگلے مراحل جیسے تعمیرِ نو اور انسانی امداد کی نگرانی کرے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، تقریباً 40 ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس مرکز میں نمائندگی رکھتی ہیں۔
یہ فورس، تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر، غزہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور حماس کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کی ذمہ دار ہوگی — ایک ایسا کام جو اسے براہِ راست حماس کے ساتھ تصادم میں لا سکتا ہے۔ جنگ بندی منصوبے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا بھی ذکر ہے، جس پر کئی ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا، “فی الحال کوئی بڑا اختلاف موجود نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ صورتحال برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔
