پاکستان کے سابق فاسٹ بولر اور پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس، عاقب جاوید نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے فاسٹ بولنگ سے متعلق رہنمائی کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تھا۔
پی سی بی کے آفیشل پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بھارت نے پی سی بی کے اوورسیز پلیئرز پروگرام کے تحت فاسٹ بولنگ میں تکنیکی مدد حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
عاقب جاوید نے انٹرویو میں پاکستان کرکٹ کے نظام، ہائی پرفارمنس اسٹرکچر اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کھلاڑیوں کی تیاری کا بنیادی مرکز ہے اور پی سی بی نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے لیے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں جدید بایومکینکس لیبارٹری کا قیام بھی شامل ہے۔
ان کے مطابق آئی سی سی سے منظور شدہ یہ لیبارٹری، جو 2006 سے غیر فعال ہے، آئندہ چند ماہ میں دوبارہ کام شروع کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے غیر قانونی بولنگ ایکشن کی نشاندہی میں مدد ملے گی اور کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اسے استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی بی کے اوورسیز پاتھ وے پروگرام کے ذریعے بیرون ملک مقیم کرکٹرز کو پاکستان میں کوچنگ اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اور پہلے ہی انگلینڈ اور نیدرلینڈز کے کرکٹرز یہاں آ کر تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
عاقب جاوید نے اس پروگرام کو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اہم معیار قرار دیا اور کہا کہ اصل بہتری تب ہی سامنے آتی ہے جب نظام کو عالمی معیارات کے مطابق پرکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم خود کو عالمی سطح پر چیلنج نہ کریں، ہمیں یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارا ڈھانچہ کتنا مضبوط ہے اور ہمارے کوچز کی صلاحیتیں بین الاقوامی سطح پر کہاں کھڑی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پروگرام مزید وسعت اختیار کرے گا اور بھارت کی جانب سے فاسٹ بولرز کے لیے رہنمائی کی درخواست بھی موصول ہو چکی ہے۔
دونوں ممالک کے تناؤ سے متعلق سوال پر انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ عام لوگ اپنی سوچ رکھتے ہیں لیکن بیوروکریٹک معاملات بالکل مختلف انداز میں چلتے ہیں۔
