یورپ کے بالٹک خطے میں آبادیاتی عدم توازن نے خاندانی ڈھانچے اور شادی کے روایتی تصور کو نمایاں طور پر بدلنا شروع کردیا ہے۔ لٹویا، لیتھوانیا اور ایسٹونیا جیسے ممالک میں خواتین کی آبادی مردوں سے مسلسل بڑھتی شرح کے ساتھ آگے نکل چکی ہے، جس نے معاشرتی اور ازدواجی مسائل کو غیرمعمولی سطح تک پہنچا دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لٹویا کی آبادی میں ہر 100 مرد کے مقابلے میں تقریباً 118 خواتین موجود ہیں، جب کہ یہی صورتحال دیگر ہمسایہ ریاستوں میں بھی برقرار ہے۔ مردوں کی کم تعداد کے سبب شادی کی عمر کو پہنچنے والی لاکھوں خواتین طویل انتظار کے باوجود شریکِ حیات سے محروم رہنے پر مجبور ہیں۔ اس عدم توازن نے سماجی مباحث کو جنم دیا، جن میں ایک سے زائد تعلقات اور مشترکہ ساتھی (poly relationships) جیسے غیر روایتی تصورات بھی زیرِ بحث آنے لگے۔
سوشل میڈیا اور مقامی بلاگز پر اسی بحث کو طنزیہ انداز میں “شوہر کرائے پر دینے” اور “حصہ داری میں شریکِ حیات” جیسے عنوانات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، جس نے معاملے کو مزید وائرل اور غیر سنجیدہ رخ دے دیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت اس مبالغہ آرائی سے مختلف ہے—یہ محض آبادیاتی دباؤ کے باعث سامنے آنے والا سماجی رجحان ہے، کوئی سرکاری قانون یا قانونی اجازت نامہ نہیں۔
demographers کے مطابق مردوں کی کمی نہ صرف شادی کے نظام کو متاثر کر رہی ہے بلکہ آبادی کے مستقبل اور شرح پیدائش کے لیے بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ متعدد سماجی تنظیمیں اس غیر متوازن تناسب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتوں سے امیگریشن، خاندانی سہولیات اور متوازن آبادی کے لیے طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ماہرین کے نزدیک اگر یہ بحران آئندہ برسوں میں بھی برقرار رہا تو یورپ کے کئی ممالک میں خاندان کا روایتی ڈھانچہ، شادی کے تصور اور تعلقات کی اخلاقی حدود میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو جائیں گی
