انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے میر رضا علی قتل کیس کی تفتیش کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے افسران نے شواہد مٹانے اور گواہوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
جبران ناصر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ محض غفلت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد اصل ملزمان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ سے اکٹھے کیے گئے فرانزک نمونے پراسرار طور پر غائب کر دیے گئے اور تفتیشی عمل کے دوران قانونی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
متاثرہ خاندان کے لیے یہ تکنیکی خامیاں کسی صدمے سے کم نہیں۔ جبران ناصر کے مطابق، جب بھی ان کی ٹیم نے شفافیت کا مطالبہ کیا، انہیں انتظامی رکاوٹوں اور "گمشدہ” فائلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تفتیش جاری ہے، لیکن جبران ناصر اسے محض وقت گزاری قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن افسران نے شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، وہ آج بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔
سندھ پولیس کے اندرونی احتساب کے نظام پر اٹھنے والے یہ سوالات اب سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں۔ جبران ناصر نے متنبہ کیا کہ اگر تفتیشی عمل میں ملوث افسران کے خلاف آزادانہ انکوائری نہ ہوئی تو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی۔
اب قانونی ٹیم ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں کیس کی فائلیں تباہ کرنے والے افسران کی معطلی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جبران ناصر کا موقف دو ٹوک ہے: جب تک کور اپ (cover-up) میں ملوث افراد کٹہرے میں نہیں آتے، یہ تفتیش محض ایک ڈرامہ ہے۔
