ستمبر 15، 2025
ویب ڈیسک
اسلام آباد : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ کے زیریں علاقوں کے لیے ہائیڈرولوجیکل الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، جس سے شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دریائے چناب میں تریموں، مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر پانی کی سطح میں کمی آنے سے صورتحال قابو میں ہے۔ تاہم پنجند کے مقام پر 3 لاکھ 8 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس وقت جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، مظفرگڑھ، راجن پور، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان، علی پور، سیت پور، لیاقت پور، اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ شدید متاثر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ پر صورتحال معمول کے مطابق ہے، لیکن گڈو بیراج پر 6 لاکھ 35 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ یہ ریلا آئندہ 2 سے 3 روز میں سکھر اور 24 سے 26 ستمبر کے دوران کوٹری بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔ کوٹری پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے 4 لاکھ کیوسک تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سکھر بیراج پر اس وقت درمیانے درجے کا سیلاب (5 لاکھ 38 ہزار کیوسک) جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب (2 لاکھ 78 ہزار کیوسک) موجود ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کے باعث زیریں سندھ کے علاقوں میں آئندہ 24 گھنٹوں سے 17 ستمبر تک تیز بہاؤ اور خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اب تک پنجاب میں تقریباً 27 لاکھ اور سندھ میں 16 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر سول و عسکری اداروں کے تعاون سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگ فوری طور پر انخلاء میں تعاون کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی کٹس ہمراہ رکھیں۔ مزید رہنمائی کے لیے شہریوں کو "ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
